بلوچستان میں خواتین کی شرح خواندگی پاکستان بھر میں سب سے کم ہے

0
80
بلوچستان شرح خواندگی

ایک اندازے کے مطابق بلوچستان میں خواتین کی شرح خواندگی پاکستان بھر میں سب سے کم ہے۔ اس بات کی توثیق اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ بلوچستان میں آج بھی محض 27 فیصد خواتین تعلیم یافتہ ہیں اورسکول جانے والی عمر کی 75 فیصد یا اندازاً 10 لاکھ لڑکیاں سکولوں سے باہر ہیں۔

کئی عوامل اس پریشان کن صورتِ حال کے ذمہ دار ہیں۔ ان عوامل کا تعلق نہ صرف رجعت پسند سماجی رویوں سے ہے بلکہ اس معاملے کی سنگینی میں تعلیم کو نہ دی جانے والی ترجیح کا بھی بہت بڑا کردار ہے۔

تحقیق سے معلوم پڑتا ہے کہ بلوچستان کے شہری علاقوں میں ہر 100 پرائمری سکولوں کے لیے صرف 36 سیکنڈری سکول ہیں۔ دیہی علاقوں میں صورتحال مزید پریشان کن ہو جاتی ہے جہاں ہر 100 پرائمری سکولوں کے لیے صرف 18 سیکنڈری سکول موجود ہیں۔

گویا، اگر بلوچستان میں ہر بچے کے پاس پرائمری سے سیکنڈری تک گریجویشن کے لیے باقی تمام حالات سازگار ہوں، تب بھی ان طلباء کی اکثریت اپنے علاقے میں سیکنڈری سکولوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے ثانوی تعلیم سے محروم رہ جائے گی۔

اسکولوں کی قلت سے لے کر خواتین اساتذہ کی کمی تک، پاکستان کی اپنی بیٹیوں کو تعلیم دینے کی جدوجہد

اور اس لیے، زیادہ حیرت کی بات نہیں کہ بلوچستان میں ثانوی سطح پر داخل ہونے والی ہر 100 لڑکیوں کے مقابلے میں اسی عمر کی 666 لڑکیاں سکولوں سے باہر ہیں۔

مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ جو اسکول موجود بھی ہیں، ان میں سے بیشتر میں بجلی، پانی اور بیت الخلاء جیسی بنیادی سہولیات موجود ہی نہیں۔

بلوچستان کے دیہی علاقوں میں 80.6 فیصد پرائمری اور 58.7 فیصد سیکنڈری سکولوں میں بجلی دستیاب نہیں ہے جبکہ شہری علاقوں میں 74.6 فیصد پرائمری اور 35.4 فیصد سیکنڈری سکول بجلی کے بغیرہیں۔

اسی طرح دیہی علاقوں میں 41 فیصد پرائمری اور 41.1 فیصد سیکنڈری سکول اور شہری بلوچستان میں 43.9 فیصد پرائمری اور 31.9 فیصد سیکنڈری اسکول پانی سے محروم ہیں۔

مزید برآں، بلوچستان کے دیہی علاقوں میں 72.8 فیصد پرائمری اور 30.9 فیصد سیکنڈری سکولوں اور بلوچستان کے شہری علاقوں میں 64.2 فیصد پرائمری اور 22.4 فیصد سیکنڈری سکولوں میں بیت الخلاء نہیں ہیں۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ سکولوں کی کمی کے ساتھ ساتھ بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی نے لڑکیوں کی اکثریت کے لیے پانچویں کلاس سے آگے اپنی تعلیم جاری رکھنا ناممکن بنا دیا ہے۔

بلوچستان میں لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی کو روکنے والے سپلائی سائیڈ مسائل کو تنہائی میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کا ڈیمانڈ سائیڈرعوامل کے ساتھ براہ راست تعلق ہے۔ رجعت پسند معاشرتی رویوے جیسے کہ بچپن کی شادیاں، چائلڈ لیبر، اور خواتین کی تعلیم کے لیے عام ناپسندیدگی اس وقت مزید پروان چڑھتے ہیں جب حکومت اپنے تعلیم کی مد میں کیے گئے وعدوں پر پورا اترنے میں ناکام رہتی ہے۔

اور اس طرح، صوبے میں عوامی تعلیمی نظام میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی بھرپور کوششوں کے بغیر کچھ خاص پیش رفت حاصل کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ اس مسئلے پر فوری، ٹھوس اور مستقل ردعمل کے بغیر، بلوچستان کی شرح خواندگی بدستور مایوس کن ہی رہے گی اور اس کا پاکستان کی ترقی اور خوشحالی پر براہ راست اثر پڑے گا۔

یہ مضمون انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کی ٹیچ مہم کا حصہ ہے۔ مزید معلومات کے لیے براہ کرم ان کے فیس بک، یوٹیوب، ٹویٹر اور انسٹاگرام ہینڈلز ملاحظہ کریں۔