کے۔پی گھریلو تشدد ایکٹ ہماری خاندانی اقدار کے خلاف نہیں ہے، مدیحہ نثار

0
Domestic Violence Act Madiha Nisar

بولو جوان کے پوڈ کاسٹ، “جو بات ہے،” کے نئے ایپی سوڈ میں، رکن خیبر پختونخواہ اسمبلی اور صوبائی قائمہ کمیٹی برائے اعلیٰ تعلیم کی چیئرپرسن، مدیحہ نثار نے خواتین کے خلاف کے۔پی کے گھریلو تشدد (روک تھام اور تحفظ) ایکٹ، ۲۰۲۱ کے بارے میں بات کی۔

ہمارا بنیادی مقصد کے۔پی گھریلو تشدد (روک تھام اور تحفظ) ایکٹ ۲۰۲۱ کی نمایاں خصوصیات کو جاننا تھا، یہ کب نافذ ہوگا، اور یہ کے۔پی کی خواتین کو کیسے تحفظ فراہم کرے گا۔

محترمہ مدیحہ نثار نے کہا کہ اس تاریخی قانون کی منظوری ۲۲ سال کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ “اس بل کو پاس کرانا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ ہم نے غلط فہمیوں کو دور کرنے اور اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشورہ کیا، اس لیے ایک بار پیش ہونے کے بعد اسے کے۔پی اسمبلی کے اراکین کی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

مدیحہ نثار نے روشنی ڈالی کہ یہ بل نہ تو شادی شدہ جوڑوں کے تعلقات پر منفی اثر ڈالے گا اور نہ ہی یہ خاندانی اقدار کے خلاف ہے۔
“خاندان کا کوئی بھی فرد جو کمزور ہے یا تشدد کا سامنا کر رہا ہے چاہے وہ کسی کی خالہ، ماں، بہن، ساس، یا بیوی ہو، اس قانون سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔”

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گھریلو تشدد صرف جسمانی تشدد تک ہی محدود نہیں ہے، “اگر شوہر اپنی بیوی کو روزمرہ کے اخراجات سے محروم کرتا ہے تو یہ بھی “گھریلو تشدد کی ایک شکل ہے۔

ہم یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ اس قانون کے نفاذ لیے رولز آف بزنس کب تک مرتب ہو جائیں گے اور اس قانون کا باقاعدہ نفاذ کب ہوگا؟
ہمارے سوال پر مدیحہ جی نے جواب دیا، ’’ہمارا ہدف ۲۰۲۱ کے آخر تک رولز آف بزنس کی وضاحت کرنا تھا لیکن بدقسمتی سے ہم ایسا کرنے میں ناکام رہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، “ہم ان کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی پوری کوشش کر رہے ہیں تاکہ ہم عمل درآمد کے مرحلے کی طرف بڑھیں۔”

ایم پی اے مدیحہ نثار کے ساتھ اس معلوماتی گفتگو کو دیکھنے کے لیے آپ ہمارے فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام یا ٹوئٹر ہینڈلز پر جا سکتے ہیں۔

یہ مضمون پاکستان یوتھ چینج ایڈووکیٹیٹس کی گھریلو تشدد کے خلاف مہم کا حصہ ہے۔ مزید معلومات کے لیے ان کے فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام اور یوٹیوب ہینڈلز ملاحظہ کریں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here