کے۔پی گھریلو تشدد (تحفظ اور روک تھام ایکٹ) 2021 کے بارے میں وہ سب کچھ جو آپ کو معلوم ہونا چاہیے

0
63
KP Domestic Violence Act 2021 | ایکٹ گھریلو تشدد کے۔پی

جنوری 2021 میں خیبر پختونخواہ (کے۔پی) کی صوبائی اسمبلی نے “خواتین کے خلاف گھریلو تشدد (تحفظ اور روک تھام) ایکٹ، 2021” منظور کیا۔

یہ اہم قانون صوبے کی خواتین اور لڑکیوں کو ہر قسم کے گھریلو تشدد (بشمول جسمانی، جنسی، جذباتی، نفسیاتی اور معاشی) کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔

اس قانون کے مطابق کسی دوسرے شخص کے خلاف ایسی کارروائی کرنا جو جسمانی، جذباتی، نفسیاتی، معاشی یا جنسی نقصان کا باعث بنے وہ  گھریلو تشدد ہے۔

Read: کویڈ۔۱۹اور پاکستان کا بڑھتا ہوا تعلیمی بحران

چیخنا چلانا اور جسمانی زیادتی کی دھمکی دینا بھی گھریلو تشدد کی تعریف میں شامل ہے۔

خواتین اور نوجوان لڑکیاں اکثر گھریلو تشدد کا سب سے زیادہ شکار ہوتی ہیں۔

گھریلو تشدد کی بنیادی وجوہات میں معاشی بااختیاریت کی کمی، اپنے حقوق کے بارے میں بیداری نہ ہونا، اور تعلیم کی کمی شامل ہیں۔

خواتین کے خلاف کے۔پی گھریلو تشدد (روک تھام اور تحفظ) ایکٹ، 2021 شکایات کے فوری حل کا وعدہ کرتا ہے ۔

قانون کے تحت ڈسٹرکٹ پروٹیکشن کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔ یہ کمیٹیاں گھریلو تشدد اور خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملات کو سنبھالنے، خواتین کو گھریلو تشدد سے محفوظ رہنے میں مدد کرنے اور خواتین کو ان کے حقوق کے بارے میں تعلیم دینے اور آگاہ کرنے کی ذمہ دار ہوں گی۔

اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا گھریلو تشدد کا شکار ہے، تو شکایت براہ راست ضلع یا سیشن عدالتوں میں دائر کی جا سکتی ہیں، (یا) مدد کے لیے ڈسٹرکٹ پروٹیکشن کمیٹی سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

شکایات کون درج کر سکتا ہے؟

شکایات سیشن جج کی عدالت میں گھریلو زیادتی کا شکار ہونے والے خود، لواحقین کی جانب سے سرپرست، یا ڈسٹرکٹ پروٹیکشن کمیٹی کے ذریعے دائر کر سکتے ہیں۔

عدالتیں گھریلو تشدد کی شکایت موصول ہونے کے 60 دنوں کے اندر فیصلہ سنانے کی پابند ہیں۔

اگر ملزم گھریلو تشدد کا مرتکب پایا جائے تو اس کی کیا سزو ہوگی؟

جرم ثابت ہونے پر ملزم کو کم از کم 1 سال اور زیادہ سے زیادہ 5 سال تک جیل بھیجا جا سکتا ہے۔ گھریلو تشدد کے مجرم کو پاکستان پینل کوڈ کے مطابق جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔

اگر کوئی خاتون عدالت میں نہ جانا چاہتی ہوں تو وہ معاملے کے حل کے لیے کیا کریں؟

وہ خواتین اور لڑکیاں جو عدالتوں میں نہیں جانا چاہتیں وہ بھی ثالثی کے ذریعے اپنی شکایات کے حل کے لیے ڈسٹرکٹ پروٹیکشن کمیٹی سے رابطہ کر سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں، ڈسٹرکٹ پروٹیکشن کمیٹی 3 ثالثوں کو نامزد کرے گی: 1 لواحقین کی طرف سے، 1 مدعا علیہ کی طرف سے، اور 1 غیر جانبدار فریق کے طور پر۔ اس کے بعد شکایت کو ثالثی کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

مزید برآں، ڈسٹرکٹ پروٹیکشن کمیٹیوں کو گھریلو تشدد سے بچ جانے والوں کو قانونی، طبی (بشمول طبی معائنہ)، نفسیاتی، اور پناہ گاہ سے متعلق مدد فراہم کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔

یہ مضمون پاکستان یوتھ چینج ایڈووکیٹیٹس کی گھریلو تشدد کے خلاف مہم کا حصہ ہے۔ مزید معلومات کے لیے ان کے فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام اور یوٹیوب ہینڈلز ملاحظہ کریں۔