سوشل میڈیا کے استعمالات سے بچوں پر ہونے والےنقصانات

0
سوشل میڈیا بچوں نقصانات
Image Source: BBC

.سوشل میڈیا کے استعمالات سے بچوں پر ہونے والے اسکے نقصانات کافی ہیں

جس طرح ہر پہلو کے دو سرے ہوتے ہیں اسی طرح ہر چیز کے فائدے اور نقصان دونوں ہوتے ہیں اور یہ لوگوں پر ہے کہ وہ اس چیز کا استعمال کس طرح کرتے ہیں اگر وہ اس چیز کا استعمال درست کریں گے تو انھیں اس چیز سے فائدے ملیں گے لیکن اگر وہ اس چیز کا غلط استعمال کریں گے تو انھیں اس چیز سے بہت سے ںقصانات ملیں گے۔ سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کا استعمال روز بہ روز ذیادہ ہوتا جارہا ہے اور اس کا استعمال اس حد تک ہورہا ہے کہ یہ لوگوں کی ضرورت بن گئی ہے سوشل میڈیا سے لوگوں کو بہت سے فائدے مل رہے ہیں اور اسکی مدد سے ہمارے بہت سے کام آسانی سے اور جلدی ہوتے جارہے ہیں۔

Via Techjuice

 سوشل میڈیا کو جہاں ایک نعمت سمجھا جاتا ہے وہاں اس کے بہت سے ںقصانات بھی ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ سوشل میڈیا دن بہ دن ایک ضرورت بنتا جارہا ہے مگر اتنا بھی نہیں کہ کم عمر کے بچے بھی اس کا استعمال شروع کریں اور انھیں اس چیز کی عادت سی ہوں۔ سوشل میڈیا بچوں پر کافی حد تک اثر انداز ہوتا ہے ۔ سوشل میڈیا کے استعمال کا بچوں پر سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اسکے زائد استعمالات سے بچوں کا وقت ضائع ہوتا ہے اور انکی تعلیم کافی حد تک متاثر ہوتی ہے۔ طالبعلم اپنا زیادہ وقت تعلیم کے بجائے سوشل میڈیا پر گزار رہے ہیں اور کتابوں کا استعمال کافی حد تک کم کررہے ہیں اور کسی بھی عنوان کے بارے میں گوگل سے کاپی پیسٹ نکال کر پڑھ رہے ہیں۔ بچے کافی حد تک گوگل کا استعمال کر رہے ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ہمیں گوگل سے جو معلومات مل رہی ہے وہ صحیح ہوں ہمیں ملی ہوئی معلومات غلط بھی ہو سکتی ہے۔

اور پڑھئے:Social Media Is Flooding With #MeToo Stories Of Sexual Harassment

اگر ہم آج کے دور کا موازنہ 20 سال پہلے کے دور سے کریں تو ہمیں دونوں ادوار میں کافی فرق نظر آئیں گا کیونکہ آج کل کے بچے اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے اور وقت گزارنے کے بجائے موبائل فون اور کمپیوٹر وغیرہ سے گیم کھیل کر اپنا وقت گزارتے ہیں اور اپنے دوستوں سے بھی فون کے ذریعے رابطہ کررہے ہیں۔ سوشل میڈیا کا استعمال بچوں پر اس حد تک حاوی ہوگیا ہے کہ وہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ تک وقت نہیں  گزارتے اور ایک ہی گھر میں رہ کر کسی بھی کام کے لیے میسج یا کال کرتے ہیں۔

Via Pak Parenting

کم عمر کے بچوں کا ذہن بھی بڑوں کے مقابلے میں کافی کمزور ہوتا ہے اور وہ اپنے اچھے اور برے کی تمیز نہیں کرسکتے،اس وجہ سے ذیادہ تر بچے سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے برائی کی طرف راغب ہوتے جاتے ہیں اور پھر انکے لیے سچ پر یقین کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ کم عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنے ہوئے ہیں جن پر وہ ہر وقت پوسٹ کرتے رہتے ہیں اور انکی کوئی تنہائی یا رازداری نہیں ہوتی تو یہ انکے لیے کافی نقصان دہ ہے۔ سوشل میڈیا پر کافی جعلی اکاؤنٹس بنائے گئے ہیں جن سے وہ دوسرے لوگوں کو بلیک میل کرتے ہیں تو ایسے لوگ ذیادہ تر کم عمر کے بچوں کو اپنا شکار بناتے ہیں۔ موبائل فون، ٹیبلیٹ اور کمپیوٹر وغیرہ کافی مہنگے ہوتے ہیں اور انکو سنبھالنا بچوں کے لیے بہت مشکل ہے ، بچوں کے پاس ایسی چیزوں کا چوری ہونا بہت عام ہے تو اس سے نہ صرف پیسوں کا نقصان ہے بلکہ بچوں کی حفاظت کا بھی خطرہ ہے۔

Via Pinterest

حکومت کو چاہیے کہ ایک ایسا نظام بنائے جس کے تحت 18 سال سے کم عمر کے بچے موبائل فون کا استعمال نہ کریں اور جو جعلی اکاؤنٹس بنائے گئے ہیں انھیں ختم کریں. PUBG، Tik Tok, Free Fire ،WhatsApp جیسی ایپس پر ایسی پابندی لگائے کہ بچے انھیں استعمال نہ کرسکیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسی پالیسی بنائے جس کے تحت کوئی بھی غلط معلومات لوگوں تک نہ پہنچے اور اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ انفارمیشن بار بار تبدیل نہ ہوں۔ حکومت کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی خیال کرنا چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو موبائل فون اور کمپیوٹر وغیرہ نہ خرید کر دیں اور اگر انھیں ایسی چیز دیں بھی رہیں ہے تو بچوں پر توجہ دیں کہ وہ ان چیزوں کا زیادہ استعمال نہ کریں اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی نہ بنائے۔ ایسی چیزیں دینے سے پہلے بچوں کے مائنڈ سیٹ کریں کہ وہ اسکا استعمال کیسے کریں اور انھیں اس چیز سے کیا فائدہ اور کیا نقصان ملیں گے تاکہ بچوں کا مائنڈ سیٹ ہوں اور وہ سوشل میڈیا کو صرف اپنے کے لیے استعمال کریں۔

اس بلاگ میں جن خیالات اور رائے کا اظہار کیا گیا ہے وہ مصنف کے ہیں اور یہ ضروری طور پر بولو جوان کے خیالات کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔