کویڈ۔۱۹اور پاکستان کا بڑھتا ہوا تعلیمی بحران

0
Girls Education

ہمارا ملک دنیا میں اسکولوں سے باہر بچوں کی دوسری بڑی آبادی کا حامل ہے۔ ملک بھر میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 22.8 ملین بچے اور بچیاں آج بھی تعلیم سے محروم ہیں۔ تعلیم سے محروم ان  بچوں میں اکثریت لڑکیوں کی ہے۔

کورونا وائرس کے بعد پیدا ہونے والی معاشی بدحالی کی وجہ سے یہ خدشہ ہے کہ مزید 10 لاکھ بچے اپنے کلاس رومز میں کبھی واپس نہیں جا پائیں گے۔ وبائی مرض کی آمد کے بعد ملک بھر میں لاکھوں گھرانے غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں جس کی وجہ سے گھریلو آمدنی کو پورا کرنے کے لیے یا تو بچے اور بچیوں کو محنت مزدوری کی ڈگر لگایا جا رہا ہے یا گھریلو اخراجات کو کم کرنے کے لیے والدین انہیں اسکولوں سے اٹھانے پر مجبور ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، اسکولوں کی طویل بندش کے نتیجے میں رجعت پسند سماجی رواج، جیسے کہ بچپن کی شادیوں میں بھی اضافے کا اندیشہ ہے۔

پچھلی دہائی کے دوران، پاکستان تقریباً 20 لاکھ بچوں کو باضابطہ تعلیمی دائرے میں لانے میں کامیاب رہا۔ اس اضافے کو مختلف طریقوں، جیسے کہ تعلیمی وظیفہ کی اسکیموں، اور مضبوط اندراج کی مہموں سے یقینی بنایا گیا۔ اس جیت کا سب سے امید افزا پہلو زیادہ لڑکیوں کو اسکولوں میں لانے میں کامیابی حاصل کرنا تھا۔ تاہم، اس میں سے زیادہ تر کامیابی پرائمری سطح پر حاصل ہوئی اور ثانوی اور اعلیٰ ثانوی سطحوں پر ڈراپ آؤٹ کی شرح، خاص طور پر لڑکیوں کے لیے، مایوس کن ہی رہی۔

اور اب، ایک دہائی سے زائد عرصے میں حاصل کی گئی چھوٹی چھوٹی کامیابیاں بھی پاکستان کے پاؤں تلے سے کھسکتی نظر آتی ہیں۔ ایسے حالات میں وبائی مرض کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایک جدید حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔

ایک طرف تو ڈیجیٹل تعلیم کے منصوبوں کو فوری طور پر پائلٹ اور پھر مرکزی دھارے میں لانا اہم ہے تاکہ ہمارا تعلیمی نظام مستقبل کی آفات کا موثر سامنا کر پائے۔ دوسری طرف، تعلیم میں عوامی سرمایہ کاری کو ہنگامی بنیادوں پر بڑھانا ہوگا۔ اس بہتر تعلیمی سرمایہ کاری کی ضرورت صرف تعلیم تک رسائی کے مسائل حل  کرنے کے لیے ہی ضروری نہیں بلکہ ہمارے سرکاری اسکولوں میں دی جانے والی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔.

یہ بات بھی اہم ہے کہ حکومتی سطح پر جو بھی کوششیں کی جائیں ان کا لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی عام کرنے پر خاص ضور ہو۔ خاص طور پر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس کوششیں کی جانی چاہئیں کہ زیادہ سے زیادہ لڑکیاں ثانوی سطح تک گریجویٹ ہو پائیں اور کم از کم 12 سال کی تعلیم ضرور مکمل کریں۔ آج بھی، پاکستان میں سیکنڈری میں داخل ہونے والی ہر 100 لڑکیوں کے مقابلے میں اسی عمر کی 223 لڑکیاں اسکولوں سے باہر ہیں۔ فرسودہ روایات اور لڑکیوں کے اسکولوں کی شدید کمی جیسے مسائل مل کرلاکھوں پاکستانی لڑکیوں کو اپنی تعلیم جاری رکھنے سے محروم کر دیتے ہیں۔

لڑکیوں کی تعلیم میں حائل رکاوٹوں کے بارے میں مزید معلومات اس سلسلے کے آئندہ مضامین میں فراہم کی جائیں گی۔

مختصراً ، تعلیم میں ماضی کی کامیابیوں کے تحفظ اور ہنگامی حالات کا مثبت سامنا کرنے کے لیے، پاکستان کو ہر قیمت پر ایسی منصوبہ بندی کرنا ہوگی جونہ صرف زیادہ لڑکیوں کو اسکولوں میں لانے میں مددگار ثابت ہو بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ ہماری بیٹیاں اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھ پائیں۔

یہ مضمون انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کی ٹیچ مہم کا حصہ ہے۔ مزید معلومات کے لیے براہ کرم ان کے فیس بک، یوٹیوب، ٹویٹر اور انسٹاگرام ہینڈلز ملاحظہ کریں۔