!جنید جمشید – ایک با ب جو تمام ہوا

!جنید جمشید – ایک با ب جو تمام ہوا

SHARE

حادثات تو غیر متوقع ہی ہوا کرتے ہیں ۔لیکن اس حادثے نے اندر تک پاکستانیوں کو جھنجھوڑ دیا ہے ۔محبتوں میں گندھا ہوا ان کا خمیر تھا ۔ یادین کی وجہ سے محبت اﷲنے ڈالی ۔ کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ خدا جس کو اپنی معرفت کے لیے چُنتا ہے تو لوگوں کے دلوں میں اسکی محبت ڈال دیتا ہے ۔ یا پھر گانوں کی وجہ سے انکی جڑی جوانی جسکا ایک حصہ 7دسمبر کو اپنے اختتام کو پہنچا ۔ بس عجیب سی کیفیت ہے ۔ان سے انسیت ہمیشہ سے رہی ، لیکن کبھی اس طرح محسوس نہ کی تھی جو دل کی حالت ان کے جانے کے بعد ہے۔ آنسو ہیں کہ تھم نہیں رہے ، دل ہے کہ چین ہی نہیں پا رہا ۔ جیسے کو ئی بہت اپنا ، جیسے کوئی بہت عزیز بچھڑ گیا ہو ۔ اور وہ اپنے ہی تو تھے ۔دل دل پاکستان سے جو ایک رشتہ جڑا تو آنے والے ہر گانے کے ساتھ مضبوط تر ہوتا چلا گیا ۔ پھر 2009میں جب گانے سننے چھوڑے تو جنید کی جلوں جاناں اتنی سنی کہ ازبر ہو گئی ۔ ”میرا دل بدل دے ”والا کلام ان گنت با ر سنا اور ہر بار آنکھیں نم ہوئی ۔آج پھر سنا تو آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔ میں ان کی زندگی کی کتاب کے ہر ورق کو پلٹ کر دیکھ رہی ہوں ۔ایک ایک کر کے بہت سی باتیں ، قابل رشک باتیں ، قابل عمل باتیں نظر آرہی ہیں ۔۔۔
اُنکے حسن کے ساتھ ساتھ خوبصورت آواز تھی، صلاحیت تھی ، شہرت ،عزت ، مال اور محبتیں لٹانے والے شخص تھے ۔

جب حق نے آواز دی تو لبیک کہا ۔اﷲکی راہ میں ایک جھٹکے میں سب چھوڑدیا ۔ پیچھے تابناک ماضی ، سامنے انجان مستقبل ۔ پھر فقر بھی آیا، نفرتیں اور لعنتیں بھی ملیں۔بے شمار امتحان آئے مگر حالات سے گھبرا کے پلٹے نہیں ۔مستقل مزاجی سے آگے بڑھتے رہے ۔انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے وہ بھی طارق جمیل کے حوالے سے پہچانے جانے لگے ۔ وہ آواز جس میں گانوں کے سر بکھرا کرتے تھے اب اسی میں کبھی اذان ، کبھی نشید ،کبھی خطبہ سننے کو ملنے لگا ۔کل کا سنگر آج کا مبلغ اور داعئی دین تھا۔دین سیکھتے جاتے ، اور سکھاتے جاتے ۔

چونکہ با قاعدہ عالم نہ تھے تو کبھی جوش خطابت ، کبھی کم علمی ، کبھی غلط فہمی کیوجہ سے غلطی بھی کر بیٹھے ۔ انسان تھے تو خطا بھی ہوئی ۔ قدم پھسلے بھی ڈگمگائے بھی ۔لیکن ہمت نہیں ہاری ۔ گناہ پہ اصرار نہیں کیا ۔رو رو کر معافی مانگی ۔ کہاں کل کا سپر سٹار جسکی ایک جھلک دیکھنے کو لوگ ترستے ، آج باقاعدہ ہاتھ جوڑ کر آن ایئر سب سے رو رو کر معافی مانگ رہا تھا ۔لیکن پھر بھی کچھ لوگوں کے دل ایسے سخت ہوئے کہ معاف نہ کیا ۔اور موقع پاتے ہی تھپڑ مارنے سے نہ چوکے ۔ ہزاروں لوگوں کے دلوں پہ راج کرنے والا اتنے عجز اور حلم والا کہ کھلے دل سے کہہ دیا کہ میں انہیں معاف کرتا ہوں ۔لیکن جنکے دل سخت ہو جائیں ، وہ معاف کہاں کرتے ہیں۔ آج بھی جہاں ہر آنکھ اشکبار ہے ، وہاں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو خوشیاں منا رہا ہے ۔
جنید جمشید آپ کے جانے پہ ایسے رونا آرہا ہے جیسے اپنا بہت عزیز دنیا سے ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ کر چلا گیا ہو ۔ لیکن دل میں رشک کے جذبات ہیں ۔اپنے لیے ایسی موت کی تمنا اور دُعا بھی کہ توبہ کہ بعد آئے ، اﷲکی راہ میں آئے۔ آپ کی ذات سے سیکھا ہے کہ اﷲکے لیے جب کچھ چھوڑا جائے تو اس سے بہتر نعم البدل ملتا ہے ۔ اور جب ضمیر wake up call دے دے تو پھر نیک کام کو ٹالنا نہیں چاہیے ۔اور یہ سیکھا کہ اﷲکی ہر نعمت آزمائش کے پردے میں آتی ہے ۔ اﷲکے نیک بندے انہی صلاحیتوں کو اسکی راہ میں استعمال کرتے ہوئے سُر خرو ہو جاتے ہیں ۔ اور یہ بھی کہ غلطی کر بیٹھوتو معافی مانگ لو ۔ اس غلطی کی وجہ سے آئندہ نیک کام سے رک نہیں جانا ۔ آپ سے مستقل مزاجی سیکھی ، در گزر سیکھا ، اچھا اخلاق سیکھا ۔۔۔اور یہ بھی یاد دہانی ہوئی کہ موت بس ایک سانس کی دوری پر ہے ۔ اﷲتعالیٰ آپ کے ساتھ بہترین معملات کریں ۔جنت الفردوس میں اونچے مقام پر جگہ پائیں ۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY