اپنی نایاب کہانی کو جانو

اپنی نایاب کہانی کو جانو

SHARE
اپنی نایاب کہانی کو جانو
Image Source: medium.com

ہم تلاشتے ہیں خود کو دوسروں کی کہانیوں میں- ہم جب خود کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمارے ذہن میں ایک عکس ابھرتا ہے اور ہم اسکی طرح بننا چاہتے ہیں۔ ہم کہانیوں، افسانوں اور ناولوں کے کرداروں میں اپنا کردار ڈھونڈتے ہیں- ظاہر ہے ہم کچھ کر دکھانا چاہتے ہیں۔ ہم سب سے ہٹ کر، سب سے الگ رہنا چاہتے ہیں۔زندگی کے ہر موڑ پر کامیابیاں سمیٹنے کے لیے ہم خود کو مختلف کرداروں میں ڈھالتے ہیں۔ زندگی کو جینے کے لیے کسی انوکھی تلاش میں مگن رہتے ہیں۔ لیکن ایک عجیب بات یہ ہے کہ  ہم خود کو ہر دوسرے کردار ہر دوسری شخصیت میں تو تلاشتے ہیں لیکن ہم نے کبھی خود کو خود میں نہیں تلاشا- شاید کبھی کوشش بھی نہیں کی۔

دراصل ہم خود الگ اور سب سے ہٹ کر ایک کردار ہیں۔ جو ہماری کہانی ہے وہ کسی اور کی نہیں لیکن-  ہم اپنی ذات میں نایاب ہیں لیکن ہم خود سی ہی غافل ہیں- ہم اپنے کردار کو بھول بھلیوں میں چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم ایسے ہیں یا ویسے ہیں، ہماری ہر سوچ ، ہر زاویہ، ہر انداز دوسروں سے الگ ہے۔

ذرا سا سوچیں: ہم یہی چاہتے ہیں نا  کہ سب سے الگ بن کر دیکھیں؟ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہی دوسروں سے الگ رہنے کی سوچ  ہمیں دوسروں کے جیسا بنادیتی ہے؟! ہم سبھی ایک جیسے ہیں اسی لیے ہم دوسروں کی کہانیوں میں اپنا کردار تلاشتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ بات ہمارے لیے یا ہم پہ ہی لکھی گئی ہے۔

ہم ،ہمارا ذہن، ہماری سوچ سب سے مختلف ہوتے ہوئے بھی سبھی کے جیسی ہے ۔ دوسروں کی کہانی ہماری کہانی کیسے ہوسکتی ہے۔ محبت کے متلاشی خود کو ہیر رانجھا، سسی پنوں، لیلی مجنوں کی کہانیوں میں تلاشتے ہیں۔ ہیروز ہمارے ذہن کے ایسے لوگ ہیں جنکی طرح ہم بننا چاہتے ہیں۔

ہم کردار ہیں اور کردار کہانیاں بناتے ہیں نہ کہ بنی ہوئی کہانیاں کردار تشکیل دیتی ہیں۔ تو آیئے آج سے خود کو خود میں تلاش کریں۔ ہم بھی کچھ ہیں اگر ہیں تو کیا ہیں؟ اور کہاں ہیں؟

ان سوالوں کے جواب کسی دوسرے کے کردار سے نہیں اپنے کرداروں میں ڈھونڈنےسے ملیں گے-  شاید اس ہی طرح ہماری زندگی کی پیچیدگیاں آسان ہو جائیں۔ ہم دوسروں میں خود کو تلاشتے خود میں اپنی شناخت کھوچکے ہیں۔ آئیے اس کو ڈھونڈ کر دوبارہ سے نئی پہچان دیں۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY