کُن ،فَن اور فنکار

کُن ،فَن اور فنکار

SHARE
جامعہ گجرات مائم

سبھی سٹیج پرپَرفارم کرنے والے لائین میں کھڑے ہو جائیں اور منہ سے کوئی منفرد آواز
نکالیے۔

اگلا سٹیپ چلئے اب سبھی اپنے اپنے منفرد انداز میں کوئی اداکاری کیجئیے-

 اب سبھی چڑیا کی مثل اپنے ہاتھوں کو پَر بنائیے اور ایک ٹانگ اٹھا کر حرکت کیجئیے۔

پروفیسر ہارون اور پروفیسر غفار صاحب سب کو اداکاری کرنے سے پہلے کی ورکشاپ دے رہے تھے۔

مجھے اطلاع ملی تو میں بھی چل دوڑا! جس کمرہ میں یہ کلاس دی جا رہی تھی وہاں پہنچا اور سبھی میں مکس ہو گیا- خود کو بڑا اداکار سمجھنے والا پہلے ہی سٹیپ میں باہر نکال دیا گیا- میں سب کے ساتھ صحیح کو آرڈینیشن نہیں کر رہا تھا۔ یہ ورکشاپ کا دوسرا روز تھا مگر میرا پہلا، صبح 12تا شام 5بجے تک یہی کچھ چلتا رہا۔ کیا چل رہا تھا میں اسے سمجھنے سے قاصر تھا۔ اب مائم کی ریہرسل شروع ہوئی- ایک گھنٹے کی ریہرسل کے بعد مجھے یہاں سے بھی نکال دیا گیا۔ کھڑا رہا۔۔۔ خاموش رہا۔۔۔ ضبط کرتا رہا۔

یہ مائم چار روز بعد صدرِ پاکستان اور اٹھارہ سے زائد ممالک سے آئے ہوئے لوگوں (ڈیلیگیشن)کے سامنے جامعہ گجرات کی سوسائیٹی (آڈئیم آرٹ سوسائیٹی)کی جانب سے پیش کیا جانا تھا۔ اکادمی ادیبات، قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن حکومت پاکستان کے زیرِ اہتمام چوتھی سالانہ کانفرنس نیشنل آڈیٹوریم اسلام آباد میں منعقد کی گئی تھی اور ہمارامائم اس نشست کا اختتامی پروگرام تھا۔

ورکشاپ کا اگلا روز دوپہر 2بجے سبھی کو بلا لیا گیا- ریہرسل شروع کر دی گئی اور مجھے بھی ایک رول عنائیت کر دیا گیا۔ دراصل اس مائم میں یہ واضح کرنا تھا کہ انسان کی تخلیق کے بعد وہ کس طرح مذاہب سے اپنا تعلق بناتا رہا۔ اس مائم کے چار راؤنڈز تھے۔ پہلے میں تخلیقِ انسان اور مذہبِ اول کی تلاش تھی، دوسرا راؤنڈ بدھاازم، تیسرا کرسچینیٹی اور چوتھا صوفی ازم پر مشتمل تھا۔

صوفی ازم والے راؤنڈ میں مجھے ایک صوفی بنا دیا گیا۔ شام 10بجے تک ریہرسل چلتی رہی اور پروفیسر غفار تربیت دے رہے تھے۔ نہ کھانے کی خبر (ٖحالانکہ گوجرانوالہ سے وابستہ لوگوں کواس کی زیادہ فکر ہوتی ہے!)، نہ سونے کا پتہ، جسم درد سے چور، کبھی ٹھنڈ لگتی اور کبھی شدید گرمی لگتی، فکر رہتی کہ اگر آگے پیچھے ہوئے توکردار بدل جائے گا اور مجھے تو کام کرنا ہے(بس یہی خیال رہتا)۔ حتیٰ کہ حاجتِ اخراج کے لیئے باتھ روم بھی جانا ہوتا تو ضبط کر لیتے، موقع کی مناسبت دیکھتے ہوئے آگے پیچھے ہوتے۔

تیسرا روز بھی ایسے ہی چلا مگر کچھ زیادہ سختی کے ساتھ ، صبح 9بجے بلا لیا گیا اور رات 10بجے چھوڑا گیا۔ مجھے لگتا یہ ظلم ہو رہا ہے، دوڑ لگوائی جاتی، پشاپزلگوائے جاتے، بار بار ایک ہی ریہرسل کروائی جاتی۔ ایک بارلگا جیسے میں فوج میں آگیا ہوں۔ ایک کردار کی غلطی سے پورا مائم دوبارہ کروایا جاتا۔ پٹھوں میں درد نکل آیا، پاؤں میں سوجن ہونے لگی، لیکن مجھے تو کام کرنا تھا! مائم زندگی کا پہلا تجربہ تھا، میں اس سے نا آشنا تھا۔ میری آگاہی میں ٹھیٹر پرفامنس کے علاوہ کوئی چیز میرے فہم میں نہ تھی۔

میں حیران تھا کہ جس طرح سے ایک کردار بغیر کسی شور، سسکیوں کی آواز اور مقالمے کے بغیر،  ایسا تیِر دیکھنے والوں کے دل پر چلاتا ہے کہ دیکھنے والے صرف ہاتھوں کی تالیوں سے ہی نہیں بلکہ دل کی تہوں و پکار سے بھی خراج تحسین پیش کرتے۔ اتنا لازوال آئیٹم دیکھ کر مجھے چارلی چپلن اور مسٹر بین اورپنک پینتھر جیسی کارٹون سیریز یاد آگئی جو زبان کی قید کے ساتھ، موسیقی اور وژول کا سہارا لے کر ایک موضوع کو پیش کرتے ہیں۔ آج میں سمجھ گیا کہ ٹی۔وی اور فلم کی ایجاد کے ساتھ دنیا نے اپنا ذہنی ارتفا روک دیا تھا۔

میں آج یہ اعلان کر سکتا ہوں کہ یہ بت ٹوٹ چکا ہے۔انسانی اداکاری اور فنکاری کسی ایک میڈیم کے ساتھ جڑی نہیں رہ سکتی۔ آج میں صوف کلینر، شیکسپئیر سمیت بہت سے لوگوں کی یادوں میں ڈوب گیا۔ مائم جیسی آرٹ دیکھنے کے بعد میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ انسانی “فن اور ادا” اپنے شیر خوارگی کے دو ر میں ہے۔

چوتھے اور آخری روز میں فائنل ریہرسل کروائی گئی- غفار صاحب نے باقاعدہ ہر کردار کو بتایا کہ کس نے کس رنگ سے نکلنا ہے، لائٹ، میوزک ایکٹ کی ٹائم مینجمینٹ بتائی گئی۔ ونگ سے نکلنے کے بعد کس کی کیا پلیسمنٹ ہو گی۔ غلطی ہو جانے پر کیا کرنا ہے یہ بھی بتایا گیا۔ ان کے تجربے کا پتہ چل رہا تھا۔ وہ جامعہ گجرات میں سرامکس ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ اور آڈیم آرٹ سوسائیٹی کے کو آرڈینیٹر ہیں اور آڈیم کے ساتھ منسلک رہے ہیں ۔

اگلے روز اسلام آباد میں شام 6بجے پرفامنس تھی، کن کی صدا کے بعد سبھی فنکاروں نے فن کے جوہر دکھائے ۔ ہماری محنت رنگ لے آئی 18سے زائد ملکوں سے آئے ہوئے لوگوں کے سامنے خدا نے میری یونیورسٹی کا نام اور بلند کر دیا۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY