کراچی – معاشی حب یا مسائل کا حب

کراچی – معاشی حب یا مسائل کا حب

SHARE
Karachi کراچی

کراچی پاکستان کا معاشی حب کہ جس کی ترقی پورے ملک کی ترقی تصور کی جاتی ہے آ ج جس عدم توجہ کا شکار ہے اس کو دیکھ کر بڑا ترس آتا ہے۔ کونسا ایسا مسئلہ ہے جو یہاں رہنے والوں کو درپیش نہ ہو۔ اب اس شہر کو مسائل کا حب کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

پانی،  جسے زندگی کی بنیادی ضرورت خیال کیا جاتا ہے اس شہر کے کتنے علاقے ایسے ہیں جہاں اس اکیسویں صدی میں معدوم ہے۔ ان علاقوں میں پوش علاقے بھی شامل ہیں- ۔یہ شہر ایسے حال پہ پہنچ چکا ہے کہ یہاں زیر زمین پانی کی لائنیں تو موجود ہیں لیکن سالو ں بیتنے کے باوجود ان سے پانی نہیں گزرا۔ اس صدی میں پہنچ جانا اور پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہونا مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟ ۔بجلی تو پورے ملک کی طرح یہاں بھی آنکھ مچولی کھیلتی ہے۔ اس لیے اب اسکی کمیابی کو مسئلہ تصور کیا جائے یا بد قسمتی سمجھ نہیں آتا۔

اس شہر کا دوسرا بڑ امسئلہ ٹریفک ہے۔ یہ شہر جس رفتار سے بڑھ رہا ہے اس سے دگنی رفتار سے یہاں کی  ٹریفک میں اضافہ بھی ہوتا جارہا ہے۔ کراچی میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی تعداد جس تیزی اور بے ضابتگی سے بڑھتی جارہی ہے اگر اس پر جلد قابو نہ پایا گیا تو عنقریب سڑکیں صرف کھڑی گاڑیوں سے ہی بھر جائیں گی تو ان کے گزرنے کا تو سوال ہی نہیں رہے گا۔حیف یہ کہ عوام تک اس مسلۓ سے بخوبی واقف ہے کہ اگر اس طرف توجہ نہ دی گئی تو یہ مسئلہ بگڑ سکتا ہے۔ لیکن حکام بالا کی بے توجہی پہ افسوس ہوتا ہے۔

دوسری طرف ماس ٹرانزٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ کا تصور تو اس شہر سے ختم ہوتا جارہا ہے۔ عوام کو سفری سہولت تو نام کی نہیں اور عوام اپنے تئیں جو کررہی ہو اس سے ٹریفک کے مسائل میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے۔

سیورج کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے۔ شاہراہیں ہو یا گلیاں کون سی ایسی جگہ ہے جہاں گٹر نہ ابل رہے ہوں؟ صفائی ستھرائی تو آج کل تو ہوتی نظر آرہی ہے اور دعا یہی ہے کہ یہ کام اسی طرح جاری و ساری رہے۔

کراچی کوئی چھوٹا شہر نہیں ہے بلکہ دنیا کے دس بڑے شہروں میں سےایک ہے! ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جو شہر پورے ملک کو پالتا ہے اس کی حلت قابل رشک ہو مگر اس کی حالت قابل افسوس ہے۔ یہ شہر جو کتنوں کا مسیحا بنا ہے آج خود کسی مسیحا کا منتظر ہے۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY