پھولوں کے شہر میں پہلا پھول والا – داستانِ شکر

پھولوں کے شہر میں پہلا پھول والا – داستانِ شکر

SHARE

اپنے من پسند مشغلے کی تکمیل کے لیے اسلام آباد کی سڑکوں پر گھوم رہے تھے۔ یہ مشغلہ صحافتی نقطہِ نظر سے نئی کہانی کی تلاش تھا ۔اچانک ایک ایسے بندہِٗ خدا سے واسطہ پڑا جو اپنی ذات میں منفرد اور باکمال تھا۔
جناح سُپر مارکیٹ کی سیڑھیوں پر اُدھیڑعمر شخص پانی سے بھرے ٹب میں پھول بھگوئے بیٹھا تھا ۔کوئی پھول خریدنے آتا تووہ پھولوں کو ایک ڈبکی لگواتا اور پیش کر دیتا۔معلوم پڑتا جیسے رومانیت کے گلشن میں کوئی عقیدت ومحبت کے پھول پیش کر رہا ہو۔وہ انہیں ڈبکی شاید اس لیے لگواتا کہ پھول تازہ دم ہو سکیں ، مگر نگاہِ ذوق کے لیے اس میں ایک عِلت موجود ہے اور وہ یہ کہ ان پر سے ٹپکنے والا پانی مثلِ شبنم تھا۔
اس کے چہر ے پر چمک ، مستقل رہنے والی مسکُراہٹ اور لہجے کی نزاکت اردگرد کی ہر شے کواپنے سحر میں مبتلا کر سکتی تھی ۔وہ بھی بیٹھاہوا اِک پھول ہی دکھائی پڑتا تھا ۔پھولوں کے ساتھ اس کا رشتہ پُرانا لگتاتھا،اورہاں۔۔ پھولوں نے ہی تو اس کی شخصیت کو سنوار رکھا تھا۔مشاہدے کی نظر جتنا اندازہ لگا سکتی تھی ،لگابیٹھی ۔گوشۂ ذہن و قلب میں سوالات پے سولات اُبھر رہے تھے ،ان کا جواب وہی دے سکتا تھا ۔صبر کا دامن چھوٹنے کو ہی تھا کہ گُلوں کے گُل کی جانب چل دیئے۔
اس کا اندازِ گفتگو کافی خوشگوار تھا ، رسماً سلام دعا کے بعد سوالات کاڈھیر اس کے سامنے رکھ دیا گیا۔ ہم کسی طرح اُس کے اندر داخل ہونا چاہتے تھے ، کہ کوئی درد کی کہانی مل جائے یا کوئی آپبیتی۔ مگر یہاں سب اُلٹ پایا گیا ، اس کے ہر جواب سے شکر ٹپکتا رہا۔مثلاً ہم نے پوچھا آپ پھول بیچتے ہیں اس کا م سے آپ کا گزر بسر ۔۔۔سوال ادھوراتھا کہ جواب دم دار آواز میں ملا’’ جناب! خداکا شکر ہے لاکھ باری! میں ہفتے کے آخری ایام میں ہزار، پندرہ سو کی دیھاڑی لگا لیتا ہوں اور باقی دنوں میں تھوڑے کم ہو جاتے ہیں ۔ میرے بیوی بچوں کا پیٹ اچھے سے بھر جاتا ہے ۔مزید کہنے لگا دیھاڑی کا کیا ہے لگ جائے تو لگ جائے نہ بھی لگے تو بھی کیا ہے اور دولت سے غرض نہیں ہے صاحب نہ میں نے کبھی دوسرے دن کا سوچا ہے ۔‘‘ میرے دل میں خیال آیا ہم تو ایک ہفتے کا اکٹھا ہی سوچ لیتے ہیں!
اس طرح اس سے باتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور ساتھ ساتھ اپنے اند ر کی اصلاح کابھی۔ ہم اس کے چہرے پے ٹکٹکی باندھ کر دیکھے جا رہے تھے جہاں صرف اطمینان ہی اطمینان دکھائی پڑتا تھااور یہ اطمینان اس کے شکر کا اطمینان تھا۔وہ حیدرآباد دکن سے 1982 میں آیا ہوا شخص پرویز چرریاکے نام سے جانا جاتاہے ۔ اسلام آباد کی شاہراوٗں پر بھیک مانگنے اور جھوٹ بول کر پھول بیچنے سے پرہیز کرتا ہے ،اُس کا ماننا ہے کہ جو لوگ خود کو بھوکا کہہ کر لوگوں کے سامنے اپنی اشیا ء فروخت کرتے ہیں یہ بھی بھیک مانگنے کے مترادف ہے اورحرام کے زمرے میں آتاہے ۔اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس شہر میں پہلا پھول بیچنے والا شخص یہی ہے اسے دیکھتے دیکھتے کئی لوگوں نے ٹھیلے لگالیے اور کچھ نے پھول سامنے رکھ کر مانگنا شروع کر دیا ۔
اس سے جب پوچھا گیا کہ زندگی سے کوئی شکوہ تو بھی اس نے کوئی شکوہ نہ کیا۔مگر یہ بتانا ضرور مناسب سمجھا کہ کچھ لوگوں نے اس کی زمین پہ قبضہ کر لیاجوبھرپور کوشش کے باوجود نہ واپس لے سکا ،مگر اس کے ساتھ پھر تشکر بھرے لہجے میں کہنے لگا ،’’جناب پھربھی کوئی مسلۂ نہیں خدا کا شکر ہے۔ ہم چھت تلے رہتے ہیں اور روٹی کھا کر سوتے ہیں۔‘‘ اگرچہ اس نے کوئی بہت خوبصورت دکان تو نہ سجا رکھی تھی مگر اس کے اندر پھولوں کا شہربسا پڑا تھا، اس کی شخصیت کی جاذبیت اس کا اظہار تشکر تھا ، جو پھولوں کی مہک کی صورت ٗ اُس کے لہجہ سے ٹپک رہاتھا۔۔۔ گفتگو سے اُمڈرہا تھا۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY