ستارہ: ایک کمسن گھریلو ملازمہ کی آپ بیتی

ستارہ: ایک کمسن گھریلو ملازمہ کی آپ بیتی

SHARE
گھریلو ملازمہ کمسن

میرا نام ستارہ ہے۔میں ایک غریب گھر میں پید ا ہوئی ۔ گھر میں میرے علاوہ چار بہنیں اورتھیں۔ ماں باپ ایک اینٹ کے بھٹے پر کام کرتے تھے۔ ان کی انتھک محنت کے باوجود ہمارا خرچ بمشکل ہی پورا ہو پاتا تھا۔ ہم بہنیں جیسے جیسے بڑی ہوتی گئیں گزارا اور مشکل ہوتا گیا۔ زندگی بڑی کھینچ تان  کے  گزر رہی تھی کہ ایک دن کریم چاچا آئے اور بابا کو کچھ کہا اور پھر مجھے اپنے ساتھ لے گئے ۔مجھے یاد نہیں کہ میں اس وقت کتنے برس کی تھی لیکن مجھے اتنا یاد ہے کہ گھر سے نکلتے ہوئے ماں کی روتی صورت آج بھی میرے خواب میں آکر مجھے بیدار کردیتی ہے۔ مجھے اس وقت اتنا تو سمجھ میں آگیا تھا کہ جو ہو رہا ہے اچھا نہیں ہے۔

کریم بابا مجھے اپنے ساتھ شہر لے آئے۔ یہاں ایک سیٹھ کے گھر پہ وہ چوکیدار تھے۔ مجھے انہوں ے اپنی بیٹی بتا کر سیٹھ کے ہاں کام پہ لگوادیا۔ وہاں میں سب کام کرتی تھی ۔جھاڑو، پونچھا ، برتن ، کپڑے وغیرہ۔ سیٹھانی بہت سخت تھیں ۔ مجھ سے کوئی غلطی ہوجائے تو بہت مارتی تھیں ۔ کبھی تو مارتی بھی تھیں اور رونے بھی نہ دیتی تھیں۔ میں مار کھانے کے بعد جب نڈھال ہوجاتی تھی تو مجھے کمرے میں بند کردیا جاتا تھا اور کھانے کو بھی نہیں دیا جاتا تھا۔

ایک دفعہ گھر پہ دعوت تھی۔ سیٹھ کے کوئی خاص دوست آئے ہوئے تھے۔ مجھے سختی سے ہدایت کی گئی تھی کہ میں ہر چیز کا خاص خیال رکھوں اور مہمانوں کو کوئی تکلیف نہ ہونے پائے۔ اس دن کے لیے کریم بابا نے  بھی مجھے خاص طور پہ سمجھایا تھا ۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر اتنا خاص کون ہے جس کے لیے اتنا اہتمام کیا جارہا ہے؟  بالآخر مہمان آگئے ۔ میں پورے انہماک کے ساتھ ان کی خاطر میں لگی رہی۔ اتنے میں ، میں نے دیکھا کہ مہمانوں کے ساتھ آنے والا ایک لڑکا مجھے مسلسل گھوررہا تھا۔ مجھے اس کا یہ گھورنا بالکل اچھا نہیں لگا لیکن میں اپنے کام میں لگی رہی لیکن اس کی نظریں مسلسل میرے تعاقب میں رہیں۔ میں نے جب اپنی مالکن کو بتایا تو انہوں  نے الٹا مجھ پر غصہ کیا کہ میں غلط سمجھ رہی ہوں اور توجہ سے کام کرنے کو کہا۔

میں بھی اپنے کام میں مصروف ہو گئی ۔ یہاں تک کہ دوپہر ہوگئی اور سب کھانے کے بعد آرام کرنے کے لیے اپنے کمروں میں چلے گئے۔ میں ڈرائنگ میں آکر سب سمیٹنے لگ گئی۔ اتنے میں کسی نے پیچھے سے آکر مجھے جکڑ لیا۔ میں چلانے لگی تو اس نے میرے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا اور  کمرے میں لیجانے لگا ۔ یہ وہی لڑکا  جو  مجھے بہت دیر سے گھو رےجارہا تھا۔ وہ مجھ کو گھسیٹٹا جارہا تھا کہ اچانک میرے ہاتھ میں میز پہ رکھا گلدان آگیا اور میں نے پوری قوت اسکے سر پہ دے مارا۔ اس کا سر پھوٹ گیا اور زور سے چلانے لگا ۔ شور سن کر سب وہا ں آگئے ۔ میں بہت ڈر گئی تھی ۔ میں نے   مالکن تساری بات بتا دی۔ لیکن وہ لڑکا مسلسل انکار کرنے لگا اور الٹا مجھ پہ دست دردازی کا الزام میں لگا دیا۔ میں تو ششدر رہ گئی ۔ مجھے لگا کہ مالکن میرا ساتھ دے گی لیکن الٹا انہوں مجھ پر ہی بدکردار اور جھو ٹا ہونے کا الزام لگا دیا۔میں نے سیٹھ کو پہلی دفعہ  اتنا غصہ میں دیکھا تھا۔ میں نے لاکھ بتانا چاہا لیکن انہوں میری ایک نہ سنی۔ انہوں مجھے کمرے میں بند کرادیا۔

کمرے میں مجھے اپنی ماں بہت یاد آئی ۔ میرا دل چاہا کہ اڑ کر ان کے پاس چلی جاوں لیکن کمرہ باہر سے مقفل تھا۔میں رونے لگی ۔ روتےہوئے میری نہ جانے کب آنکھ لگ گئی مجھے یاد نہیں ۔اچانک دھماکے سے دروازہ کھلا اور میں نے آنکھ کھولی تو سامنے مالکن کھڑی تھی ۔ان کے ہاتھ میں چھڑی جیسی کوئی چیز تھی۔ میں رونے لگی۔گڑگڑانے لگی لیکن انہوں نے مجھے بہت مارا ۔اتناماراکہ میں تکلیف سے بے ہوش ہوگئی۔ یہ سلسلہ یونہی کچھ دن تک چلتا رہا بالآخر مجھے وہاں سے فرار ہونے کا موقع مل گیا۔اور میں بھاگ نکلی۔

مجھے کچھ معلوم نہ تھا کہ مجھے کہاں جانا ہے۔ میں بس بھاگتی رہی ۔جب بھاگ کر تھک جاتی تو کہیں چھپنے کی جگہ دھونڈ  لیتی۔دن میں لوگوں سے کچھ مانگ لیتی ۔ کوئی دے دیتا کوئی نہ دیتا۔ الغرض ایسا کئی دن چلا۔پھرایک دن میری ملاقات ایک عورت سے ہوئی ۔ اس نے مجھ سے میرا حال پوچھا تو میں ایک دم رونے لگی اور اسے سب کچھ بتادیا۔ اس کو مجھ سے کچھ ہمدردی ہوئی اور وہ مجھے “دارالامان” لے آئی ۔ تب سے  میں یہیں ہوں کیونکہ نہ تو  مجھے اپنے گھر کا پتا معلوم ہے کیونکہ جب میں سیٹھ کے ہاں آئی تھی میں بہت چھوٹی تھی اور نہ ہی مجھے اس سیٹھ کا کچھ پتا ہے کہ وہ کون تھا اور کہاں رہتا تھا۔ مجھے اگر کچھ یاد تھا تو اتنا کہ ہم ایک اینٹوں کے بھٹے کے پاس رہتے تھے۔ اماں بابا وہاں کام کرتے تھے اور پھر ایک دن کریم بابا مجھ کو سیٹھ کے ہاں لے آئے ۔

یہاں دارالامان آکے مجھے کئی ایسی لڑکیاں ملیں جن کو “کریم بابا” جیسے لوگ ان کے ماں باپ سے لے کر انجان لوگوں کے ظلم و ستم سہنے کے لیے چھوڑ گئے اور ان کی خوشنصیبی یا کچھ اوران کو یہاں لے آئی  اورنہ جانےکتنی ہی ایسی “ستارہ” آج بھی ان سیٹھوں کے ظلم و ستم اور ہوس کا شکا ر ہیں اور اپنے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتیں ۔ کیا ہمیں اپنی مرضی سے جینے کا حق نہیں ؟ کیا ہمارے ارما ن و حقوق نہیں ؟ اگر ہیں تو ہمیں ان سے محروم کیو ں رکھا جاتا ہے؟ کیا کوئی  بتا سکتا ہے؟

والسلام ،

آپ کی “اپنی” ستارہ

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY