مزدور کی مشکلات

مزدور کی مشکلات

SHARE
Image Source: http://www.omegaproof.com

پاکستان کی 20 کروڑ آبادی کا ایک بڑا حصّہ  مزدور اور محنت کش طبقے سے تعلق رکھتا ہے- ہمارے ملک میں زرعی اور غیر زرعی پیشے سے تعلق رکھنے والے اکثر خاندان اپنی تعلیم صحت، روزگار اور رہایش حاصل کرنے کے لیے 1947؂ ء ہی سے زبوں حالی کا شکار ہیں

-پاکستان میں مزدورں کے حقوق اور شناخت کے حوالے سے قانون سازی نہ ہونے کے برابر ہے اس وجہ سے اکثر افراد کی اجرت مہس روٹی اور معمولی رہاہش ہوتی ہے- افسوس اس بات کا ہے کہ اس استحصال کو روکنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بس کا روگ نہیں ہے-  با اثر افراد اپنے اثر و ووسوخ کا استعمال کر کے ہمیشہ بچ نکلتے ہیں اور مزدوروں کا استحصال  جاری رہتا ہے- پاکستان میں کم سے کم تنخواہ کے قانون پر عمل درامد کرائے بغیر مزدوروں کی زندگی زندگیوں میں مثبت تبدیلی  لانا نا ممکن ہے۔

 وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ جس مزدور کو بھی شناختی کارڈ جاری کرے ان کی لائف انشورنس ساتھ ہی کر دے۔ ان کو علاج، رہائش، تعلیم مفت فراہم کرے شناختی کارڈ کو سوشل سیکیوڑٹی کا درجہ دیا جائے اور مزدور اسی سے ہی اولڑ اینچ بینیفٹ حاصل کریں- صرف اس بات کی تحریری اطلاع حکومت کو کریں کہ یہ کہاں پر کام کرتے ہیں ہر مزدور معمولی رقم جو اس کو زائد معوضہ کی صورت میں آجر ادا کرے اسے حکومت کے پاس خود جمع کرا کے تمام مزدور سوشل سیکیورٹی اور اولڑ اینچ بینیفت لے سکیں- اس کے لیے اداروں کو رجسٹریشن کے ساتھ مزدوروں کو بھی حق دیا جائے کہ وہ اپنے آپ کو ان حکومتی اداروں میں رجسٹر کروا سکیں جس سے یعقینی تور پر مزدوروں کے مسائل کم ہو جائیں گے

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY