مایوسی کفر ہے

مایوسی کفر ہے

SHARE
کیوں مایوسی

میں جب تک کاموں میں مصروف رہوں ٹھیک رہتا ہوں، لیکن ذرا سی دیر کے لیے مصروفیات چھوڑدوں توبہت عجیب سی کیفیت ہو جاتی ہے۔ خود کو دور کہیں گہرائیوں میں ڈوبتا محسوس کرتا ہوں، اضطراب بے چینی اوربہت وسوسوں سے دل بھر جاتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے موت بہت قریب ہے، جیسے صبح اٹھ نہیں پاؤں گا ،اس وقت نہ شور پسند آتا ہے، نہ روشنی، نہ سجاوٹ، نہ ، میوزک میں دل لگتا ہے- بس دل کرتا اندھیرے میں گم ہوجاؤں جہاں مجھے کوئی بھی نہ دیکھ پائے میں خود کو بھی نہ دیکھ پاؤں۔ بہت سے ڈاکٹرز کو مل چکا ہوں- وہ کہتے ہیں میرا ذہنی توازن بالکل ٹھیک ہے۔ بابا جی کو اپنے حالات بتاتے ہوئے بے بسی میرے لہجے سے عیاں ہو رہی تھی۔گٹھنوں کے بل بیٹھا میں شکستہ ترین آدمی لگ رہا تھا۔

بابا جی نے منہ کھولا تو مجھے امید کی کرن دیکھائی دی، شاید یہ کچھ ایسا کہ دیں جس سے میں سکون پاسکوں۔ یہ لو تعویز بیٹا گلے میں باندھ لوجلد آرام پاؤگے۔ میں نے مایوسی سے تعویز پکڑا، اس طرح کے بہت سے میرے دراز میں پہلے سے پڑے تھے۔ کچھ پیسے پکڑائے اور واپسی کی راہ چل دیا۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا اس مہینے میں کچھ پیروں، بہت سے ڈاکٹروں اور کچھ ماہرینِ نفسیات کو مل چکا تھا۔ ا ن پیروں پر کوئی یقین نہیں تھا۔ مگر میں بے بسی کے اس عالم میں تھا کہ مجھے کسی سے بھی زندگی واپس چاہیے تھی ۔

میں جو ساری عمر اپنے تک پہنچنے کے لیے روتا رہا۔ آج خواب ایک ہاتھ کی دوری میں تھے اور میں سکون ٹھونڈنے نکلا تھا۔ گھر واپس آکر پھرسے اندھیرے میں ڈوب گیا۔ گہری مایوسی میں میں جان چکا تھا اب مجھے کوئی نہیں بچا سکتا، ایسے ہی سوچتے سوچتے سوگیا۔ رات کو خواب میں ہمیشہ کی طرح خود کو خودکشی کرتے دیکھتا رہا۔ اگلی صبح وقت سے پہلے اٹھ گیا۔ گھر سے باہر نکلا تو سکول والے کے بچے راستے میں مل رہے تھے۔ ایک سکول کے سامنے سے گزرا مجھے کچھ آوازیں آئیں۔ کچھ دیر ٹھہرنے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ اندر اللہ کے نام پڑھے جارہے ہیں۔ جب ۹۹ نام مکمل کر چکے تو بچے خاموش ہو گئے۔ تو میں نے ایک گہرا سانس لیا اور واپسی پہ قدم موڑ لیے۔ میں جان چکا تھا کہ اب سکون کیسے پانا ہے۔ مجھے جلدی اس سے ملاقات کرنی تھی۔ مجھے زندگی واپس لینی تھی۔۔۔

1 COMMENT

LEAVE A REPLY