شکر گزار کون؟

شکر گزار کون؟

SHARE

گوجرانوالہ سے گجرات کے لیے سفر کر رہا تھا کہ راستے میں ایک جگہ گاڑی خراب ہو گئی ۔ گاڑی کے ٹھیک ہونے میں کتنی دیر درکار تھی ، ڈرائیور سے پوچھنے پر معلوم پڑا کہ آدھ پونا گھنٹہ لگ سکتا ہے ۔ میں گاڑی میں بیٹھا ادھر، اُدھر نظریں دوڑا نے لگا کہ شاید میری دلچسپی کا کچھ سامان میسر آجائے۔ اتنے میں نظر اچانک سڑک پار ایک گھر پہ جا پڑی ۔ یہ گھر کسی پرانے گاؤں کے روائتی طرزِ تعمیر کی عکا سی کر رہا تھا ۔ دو اڑھائی فٹ اونچی دیوار کی چاردیواری نے پورے گھر کا بھرم خوب سمیٹ رکھا تھا ، گھر کی ایک نکڑ پر دو تین اُدھیڑ عمر خواتین مصروفِ گفتگو تھیں ۔ اور وہی ان کا کچن بھی معلوم پڑتا تھا ۔ پاس ایک چولہہ تھا جو ہلکی آنچ پرجل رہا تھا، ساتھ ہی ایک درخت جس کی شاخوں کو دانستہ طور پے کاٹا گیا تھا اور اِن پر دیگچیاں اُلٹی ڈالی گیءں تھیں ۔ اِن کے مخالف طرف اک برآمدہ بنایا گیا تھا ۔ گھر میں مرد تو نظر نہ آ رہے تھے مگر پانچ ، چھ بچے گھر کے صحن میں ضرور موجود تھے اور وہ بھی قدرے روائیتی انداز میں، دوڑٰیں لگاتے ہوئے ۔
میرا تجسس لمحہ بہ لمحہ بڑھتا چلا جا رہا تھا ۔ میں گاڑی سے باہر نکل آیا اور ان لوگوں کے پاس جا کر ان کے گزر بسر اور احوالِ زیست کے متعلق جاننے کی ٹھانی۔ آگے بڑھا ، چونکہ دروازہ کوئی نہ تھا لہذا سیدھا داخلی راستے پہ جا پہنچا اور وہاں کھڑا ہو گیا اور اندر آنے کی اجازت طلب کیِ ۔ دور سے آتے ہوئے وہ لوگ مجھے مسلسل دیکھ رہے تھے ، اسی لیے شاید اُنھوں نے بغیر سوچے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھے اندر آنے کے لیے اشارے کے طور پر سر ہلا دیا ۔ رسماً سلام و دعا کے بعد میں نے اپنا میڈیا کے حوالے سے تعارف کروایا اور عرض کیا کہ یہ ہماری ڈیوٹی ہے کہ ہمیں اگر کوئی جگہ ایسی نظر آئے جہاں عوام کو کوئی مسلۂ درپیش ہے تو اسے سامنے لایا جائے۔ چونکہ مجھے ان لوگوں سے بات شروع کرنی تھی تو میں نے تعارف کے ساتھ یہ جملہ برابر پھینکنے میں کوئی مزائقہ نہ سمجھا۔
شروع میں پوچھا ، آپ یہاں رہتے ہیں کوئی مسلۂ تو نہیںِ…. وہ بولے خدا کا شکر ہے کوئی بھی مسلۂ درپیش نہیں ہے ۔ میں نے کہا پینے کا صاف پانی ملتا ہے ؟ خاتون پھر بولیں ، جی جی خدا کا شکر ہے صاف پانی اور سامنے نلکے کی جانب اشارہ کر دیا ۔ پھر پوچھا آپ کے بچے سکول جاتے ہیں ، کافی دور ہو گا سکول؟ کہنے لگیں نہیں جی بالکل بھی نہیں یہ ساتھ ہی ہے گاوءں وہاں جاتے ہیں پڑھائی بھی ٹھیک ہے ۔ میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ کوئی تو شکایت کریں ۔ خیر پھر پوچھا کھلے آسمان تلے رہتے ہیں ، گھر کا دروازہ نہیں بارشٍ میں تنگی تو ہوتی ہوگی اور کیا او ر دنوں میں ویسے ہی کبھی کسی نے تنگ بھی کیا؟ بولیں! جی ہمیں کسی نے کیوں تنگ کرنا؟ خدا کا شکر ہے جی کبھی کوئی نہیں آیا ۔ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے سوال پر بھی شکر گُزاری کے سوا کچھ نہ تھا ۔ میں نے قدرے مسکراہٹ بھر ے لہجہ میں پوچھا کیا مچھر بھی تنگ نہیں کرتا ، کہنے لگیں مچھر تو بڑے بڑے مکانوں ، پکی اینٹوں سے بھرے گھروں اور لاہور و اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں بھی لوگوں کو لڑتا ہے ۔ جواب سنتے ہی میری مُسکراہٹ ہنسی میں بدل گئی ۔
ارے بھائی کوئی تو شکایت کر دہ …. میرے ذہن میں یہ جملہ مسلسل گردش کر رہا تھا ۔ چند لمحات میں خواتین نے مجھے لاجواب کر دیا تھا ۔ میں نے جب بھی کسی ایسی جگہ جب صحافت کے فرائض سرانجام دیئے ہیں تو اکثر اربابِ اختیار سے شکوہ یا کوئی اور مسئلہ ضرور سنا۔ شکر گزاری کے واقعات بہت قلیل مقدار میں سننے کو ملتے ہیں ۔ گلہ و شکوہ اور طنزیہِ اندازِ تشکر سماجی مسئلہ ہے۔ ہم دوسرے کی تو دور اپنے خدا کی ناشکری کرنے میں بھی دیر نہیں لگاتے ۔ جبکہ قرآنِ حکیم میں واضح الفاظ میں ارشاد ہے کہ تم میرا شکر کرو میں تمیں اور دوں گا ۔ ہر وقت دوسروں کا گلہ و شکوہ اور ناشکر ی کرنے والے کو نہ تو معاشرہ پسند کرتا ہے اور نہ ہی خدا وند کریم کی ذاتِ ۔ نشیب و فراز ہر زندگی کا حصہ ہیں ۔ حالات بدلتے رہتے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ خود کو بدلنا اور برے حالات کے لیے خود کو تیار رکھنا اور مصائیب کے وقت صبر و بردباری سے کام لینا ہی مناسب فعل ہے۔ شکر کی تعریف میں اچھے اور برے دونوں حالات کا ذکر آتا ہے کہ دونوں حالات میں اُس کی اطاعت کرنا اور شکوے اور نافرمانی سے بچنا ہے۔
گاڑی ٹھیک ہو گئی ۔ڈرائیور نے آواز دی تو واپس آیا اور منزل کے لیے چل دیا مگر بقیا پورے راستے اُس گھر کی خواتین میں اور معاشرے کے باقی لوگوں میں بیٹھ کر فرق کرتا رہا۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY