دہشتگردوں کی ٹوٹی کمر سےرشک قمر تک

دہشتگردوں کی ٹوٹی کمر سےرشک قمر تک

SHARE
دہشتگردوں کی ٹوٹی کمر سےرشک قمر تک
Image Source: http://herald.dawn.com/news/1153288 Illustration by: Sabir Nazar

حالیہ دنوں ٹی وی کھو لتا ہوں تو آج کل دو ہی کمروں کا چرچا سنتا ہوں- ایک تو شاہرخ خان کی فلم (رئیس) میں استاد نصرت فتح کی مشہور قوالی “میرے رشک قمر” کا بہترین ری مکس ہے جو ان دنوں کافی مقبول ہے- حالانکہ اس پر سوال اٹھایا جاسکتا کہ  ہمارے قومی ہیرو کی قوالی کے ساتھ رد دو بدل کی اجازت کس سے لی گیی لیکن اس وقت قابل فکر بات یہ ہے کہ انڈیا میں سپر اسٹار شاہرخ خان کے ساتھ ماہرہ خان نے فلم کی ہے تو اس بات کو فیالحال چھوڑ دینا بہتر ہے- خیر گفتگو دوسری سمت جا رہی ہے- ہاں تو کمر کا ذکر ہمارے ریاستی اور سیاسی ادارے بھی کر رہے ہیں- وہ آج کل بہت فخر سے ٹی وی پر صبح شام یہ دعوے کرتے ہیں کہ ا نہوں نے دہشتگردوں کی کمر توڑ دی ہے۔

ٹوٹی کمر سے مجھے اپنے ہر دلعزیز دوست واجد بلوچ عرف واجد ثانی کی یاد آئی جو پچھلے تقریبا تین سالوں سے اپنی نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے کمر کی تکلیف بیان کرتے رہتے ہیں اور شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ اس ٹوٹی ہوئی کمر کو لیکر شانتی کے ساتھ کیسے سو سکتے ہیں؟

میں ایک عام سا آدمی ہوں، اتنی رسائی نہیں رکھتا کہ اپنے اداروں کے ترجمانوں سے دہشتگردوں کی ٹوٹی کمروں کے بارے میں سوال کرسکوں- ہاں البتہ واجد بلوچ ہمارے کافی قریبی رفیق ہیں، تو جستجو بیدار ہوئی کہ دوست کی پریشانی کے اسباب جانے جایئں اور اگر بیماری کی تکلیف میں اتنی شدت ہے تو کسی نیشنل ایکشن پلان کی طرز کا کوئی ایکشن پلان مرتب کروایا جائے یعنی آسان الفاظ میں کہا جائے تو علاج معالجے کے لیے بہتر مشورہ او ر مدد فراہم کی جائے۔

ایک دن اس ہی سلسلے میں اپنے پیارے دوست سے دریافت کیا ، جواب سن کر گویا پیروں کے نیچے سے زمین نکل سی گئی ہو، دانتوں کے نیچے زبان دبی ہی رہ گئی ہو جب موصوف نے بتایا کہ شانتی ان کی پرانی محبوبہ کا نام ہے! لہذا ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں عورت گھر کی عزت سمجھی جاتی ہے تو یہ واجد کے گھر کا معاملہ ہوا اور مجھے بچپن سے ہی یہ تربیت ملی ہے کہ دوسروں کے گھر کی خبر گیری اچھی بات نہیں ہے- خدا گواہ ہے کہ میں نے واجد اور اسکی محبوبہ کے معملات کی بہتری کے لئے دعا دی اور اپنی توجہ دہشتگردوں کی ٹوٹی ہوئی کمر کی جانب مرکوز کر دی۔

موضوع کی طرف واپسی آئیں گے اور بات دہشتگردوں کی ٹوٹی ہوئی کمر کی کریں گے- سانحہ اے پی ایس (پشاور) پاکستان کی تاریخ کے دو بڑے سیاہ باب میں سے ایک ہے، جس میں دوسرا سقوظ بنگال ہے- اتقاق تو دیکھیں دنوں ایک ہی دن یعنی ١٦ دسمبر کو پیش آئے۔ بحرحال ہم بات سا نحہ اے پی ایس کی کر رئیے تھے جس میں درندوں  نے ۱۴۸ معصوموں کی ناحق جان لے لی۔ شاید ان میں چند ہی بچوں کو علم ہو کہ مارنے والوں نے ان کو کیوں مارا اور باقی تو وہ پھول نما بچے تھے جنکی تو شاید ابھی اپنی زبان کی طوطلاہیٹ بھی ٹھیک سے ختم نہ ہو ئی تھی- بحرحال ان بچو ں کا خون اس قوم پر قرض تھا۔ تو حساب برابر کرنا بھی پوری قوم پر فرض تھا۔ لہذا آپریشن ضرب عضب کا دائرہ وسیع کیا اور آپریشن کو تیز سے تیز کر دیا گیا اور ساتھ ساتھ نیشنل ایکشن پلان بھی تشکیل پایا اور عزم کیا گیا کہ دہشتگردوں کے خلاف بلا تفریق کاروائی کی جائے گی۔ لہذا اس کے نتیجے میں فوجی عدالتوں کا بھی قیام عمل میں آیا اور سزائے موت پانے واے مجرموں کو پھانسیاں بھی د ی گئیں ۔

خیر سے بڑے بڑے مواقع غلطیاں جن پر ہم اس پورے عرصے میں اپنے بچوں کی بہترین سے بہترین تربیت کرسکتے تھے- ان کو اپنے ماضی کی غلطیاں بتاتے اور آنے والے وقت کے لیے ایک بیج بوہ دیتے تاکہ ہم ایک مضبوط قوم بن کر دنیا کو بتا سکتے کہ زندہ قومیں کیسی ہوتی ہیں- خیر ہمارے پاس اتنا دماغ ہوتا تو ہم افغان جہاد کا کبھی حصہ نہ بنتے تو ہم نے وہ ہی کیا جو ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں۔

دوسری جانب کراچی ، بلوچستان اور فاٹا میں آپریشن کو تیز کردیا گیا اور دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں پر حملے کرکے ان کو کمزور کیا گیا۔ تشویش طلب بات یہ تھی کہ بڑی تعداد میں بھارتی خفیہ ایجنسی (را) کے ایجنٹ پورے ملک سے پکٹرے جا رہے تھے، بعد ازں کتنے بری ہوئے وہ الگ بحث ہے! اگرچہ ہم اسلام کے نام پر انسانوں کو ذبح کرنے والوں کو شاید معاف کر دیں لیکن خدا کی قسم بھارتی ایجنٹوں نے ایک خروش بھی ڈالی تو ہم پھر پتھر کا جواب اینٹ سے دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

آپریشن جاری رہا اور دہشتگردوں کی کمریں ٹوٹتی رہیں لیکن پتہ نہیں ان کے پاس کیسا بام تھا جو لگاتے ہی وہ دوبارہ ہی چاق و چوبند ہو جاتے-  حملے وقفے وقفے سے جاری رہے۔ حضرت شاہ نورانی کے مزار سے لیکر بلوچستان ہاۂکورٹ تک، چارسدہ یونیورسٹی سے کوۂٹہ پولیس سنٹر تک، مہمند ایجنسی سے لیکر پنجاب اسمبلی تک اور حالیہ سہون شریف کے دھماکہ تک جب جب گھر کا ٹی وی کھولا تو حکومتی اداروں کو تسبح پڑھتے دیکھا کہ بس دہستگردوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے، بزدلانہ کاروائی تھی۔ خیر سے دو سالوں میں ٹوٹی کمر والے کئی معصوموں کی جان لے چکے ہیں اور فلوقت کسی وزیر ، مشیر، نے قوم کے وسیع تر مفاد میں مستعفی ہو نا بہتر نہ سمجھا۔ البتہ ہمارے محبوب وزیر داخلہ چودھری نثار جو کہ دہثتگردوں کے اوپر عدم برداشت کی پالیسی رکھتے ہیں لیکن پتہ نہیں ان کی مجبوریاں کیا ہیں جو وہ کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کو اسلاآباد میں جلسے و جلسوں کی اجازت بھی دے دیتے ہیں اور زیادہ نہیں بس ہلکی پھلکی گفتگو بھی کرلیتے ہیں اور اٹھتے اٹھتے ان شیطانوں کو زیادہ شیطانیاں کرنے پر تھپکی کے بعد ایک پپپی منہ کے اس طرف اور دوسری منہ کے اس طرف کرکے ان کو باور کرواتے ہیں کہ ہم آپ کے خلاف کاروائی حق رکھتے ہیں۔

ٓاگر خدا نے عزت بخششی اور زندگی نے ساتھ دیا تو اگلی قسط میں ان پپپیوں کی وجوہات سے بھی آگاہ کروں گا۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY