!درگزر کیونکر کریں

!درگزر کیونکر کریں

SHARE
معاف کرنا

معاف کرنا عظیم لوگوں کی نشانی ہے۔ غلطی کرنا ایک بات ہے اور غلطی کر کے نہ ماننا ایک دوسری بات ہے۔ لوگ اندازے کی غلطیاں معاف کردیتے ہیں لیکن دل کی بری نیت اور غلط ارادوں کی غلطیاں معاف نہیں کی جاسکتیں۔ مصیبت زدہ بندہ تو معافی مانگ ہی لیتا ہے لیکن دل سے فوری معافی مانگنے کے لیے بندے کا اپنے اوپر اعتماد اور بنیادی اصولوں اور اقدار میں گہرا احساس تحفظ درکار ہوتا ہے۔ اندرونی عدم تحفظ کے شکار لوگ ایسا نہیں کرسکتے۔ معافی کا تصور انھیں بہت کمزور کردیتا ہے۔ انھیں لگتا ہے کہ وہ بہت نرم ہوگئے ہیں اور انھیں یہ ڈر لگتا ہے کہ دوسرے انکی کمزوری سے فائدہ اٹھالیں گے۔ اسکے علاوہ وہ جو بھی کرتے ہیں اس میں خود کو حق بجانب سمجھتے ہیں۔ اگر وہ کبھی معافی مانگ بھی لیں تو وہ بہت سطحی ہوتی ہے۔

اگر جھکنا ہے تو پھراچھی نیت کے ساتھ جھکو- یہ مشرقی دانش اور عیسائی اخلاقیات کا تقاضہ ہے۔ لیو روسکن کہتا ہے کچھ حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کمزور ہی ظالم ہوتے ہیں صرف مضبوط شخص سے ہی اخلاق کی توقع کی جاسکتی ہے۔


آج کے دور میں ہماری معاف کرنے کی صلاحیت کمزور پڑتی جارہی ہے۔ بلکہ کافی حد تک کمزور ہوچکی ہے۔ آج ہم چاہتے ہیں کہ ہماری غلطیاں جلدی معاف ہوجائیں اور دوسروں کو معاف کرنے میں ہم دل کو تنگ لوگ ہیں۔بظاہر ہم سب ٹھیک ہے  کہہ کر بات تو ختم کردیتے ہیں لیکن دلوں کے کینے ختم نہیں ہوتے۔ یہی چھوٹا پودا پھلتے پھولتے بڑا ہوجاتا ہے اور بالآخر ایک دن تناور درخت بن جاتا ہے۔ اور اسکا اثر ہمارے رویوں میں صاف نظر آتا ہے۔ ہم نہ چاہتے ہوئے بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھڑک اٹھتے ہیں- چلاتے ہیں بعض اوقات کسی بات کا غصہ کسی اور پہ نکال دیتے ہیں۔ حسد ،فساد، کینہ ہمارے دلوں میں نفرتیں اور فاصلوں کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

آج ضرورت ہے کہ ہم اپنی برداشت کرنے کی صلاحیت کو بڑھائیں اور دوسروں کو معاف کرنا سیکھیں ۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری غلطیوں کو دوسرے جلدی اور آسانی سے معاف کردیں تو ہمیں ا پنے اندر یہ صلاحیت ضرور پیدا کرنی چاہئیے کہ ہم دل سے اور مخلص انداز سے دلوں سے نفرتیں ختم کریں۔ اور ہر روز سب کو معاف کر کے سوئیں تاکہ ہم ثابت کرسکیں معاف کرنا عظیم لوگوں کی نشانی ہے۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY