جہیز اب تک ایک رسم کیوں: سونے میں لپٹی لڑکی

جہیز اب تک ایک رسم کیوں: سونے میں لپٹی لڑکی

SHARE

،شادی ایک ایسا خوبصورت اور پاکیزہ عمل ہے جو مرد اور عورت کی محبت کو ایک نام دیتا ہے ایک دوسرے کو دکھ سکھ کا ساتھی بناتا ہے- ہمارے معاشرے میں تو اس عمل کو بہت خوبصورت طریقے سے رسم و رواج کے ساتھ نبھایا جاتا ہے اور انھی رسموں میں ایک رسم ایسی بھی ہے جو ایک ہی وقت میں کسی کے لیےخوشی تو کسی کے دکھ کا باعث بن جاتی ہے- ہمارے معاشرے کی اس رسم کو عام زبان میں جہیز کہا جاتا ہے- یہ رسم ہمارے معاشرے میں اس قدر رچ بس گئ ہے کہ جس کو ادا کرنا ہر لڑکی کے والدین کا فرض بن چکا ہے- شادی سے پہلے ہی لڑکے کے گھر والوں کی طرف سے لڑکی کے گھر والوں کو ایک لمبی چوڑی لسٹ پکڑا دی جاتی ہے جس کو پورا کرنے کے لیے والدین کو قرض لینا پڑتا ہے یا پھر میسر زمین کو بیچ دیا جاتا ہے اور لڑکی کو سونے میں تول کر رخصت کر دیا جاتا ہے- جونہی لڑکی شادی کر کے اپنے سسرال جاتی ہے تو رشتے داروں کی طرف سے ایک سوال کیا جاتا ہے ۰بہو جہیز میں کیا لائی ؟؟ یا پھر سرگوشی کی جاتی ہے کہ فلاں کی بہو جہیز میں گاڑی لائی ہے، فلاں کی بہو اتنے سونے کے سیٹ لائی ہے، وغیرہ، وغیرہ- ابھی یہ باتیں ہو رہی ہوتی ہیں کہ لڑکے والے فخر سے اپنا سر اونچا کر لیتے ہیں جیسے گولڈ میڈل حاصل کیا ہو

ان سب کہ بیچ میں ہم اپنی اسلامی روایات کو کچل دیتے ہیں- اگر ہم اپنے پیارے نبیؐ کی زندگی دیکھیں تو انہوں نے اپنی کسی بیوی سے جہیز نہیں لیا تھا- پھر ہم نے اس رسم کو اپنا فرض کیوں بنا لیا؟؟ جہیز نا ہو گا تو لڑکی کے ہاتھ پیلے کیوں نہیں ہو سکتے؟ اگر پیلے ہو بھی گئے تو اسے ساری زندگی برا رویہ سہنا پڑتا ہے- ہماری شریعت میں گھریلو اخراجات برداشت کرنا مرد پر فرص ہے لیکن ہم نے شاید مہر کو جہیز میں تبدیل کر دیا ہے۰ اس بات کی وضاحت قران سے کی جا سکتی ہے
فَمَا اسْتَمْتَعْتُمۡ بِہٖ مِنْہُنَّ: “توان میں سے جن عورتوں سے نکاح کرنا چاہو یعنی جن عورتوں سے تم شرعی نکاح کر کے جماع وغیرہ کافائدہ حاصل کرنا چاہو تو انہیں ان کے مقرر کردہ مہر ادا کرو
مہر ادا کرنا مرد کا فرض ہے-” لیکن ایسی کوئی ایت نہیں جو یہ ثابت کر سکے کہ جہیز عورت پر فرض ہے- ہاں اگر کوئی باپ رخصتی کے موقعہ پر بیٹی کو تحائف دینا چاہے
بشرط وہ ضروریات زندگی ہوں غیر ضروی سہولیات نہ ہوں تو اس کی اجازت ہے- رسولؐ اللہ نے جب اپنی لخت جگر  کو رخصت کیا تو تحائف میں ایک چادر، ایک مشکیزہ اور ایک تکیہ دیا

اس خوبصورت ُروایات کہ باوجود ہم اپنی زندگی کو مشکل سے مشکل تر کیوں بناتےجا رہے ہیں ہم کبھی یہ کیوں نہیں سوچتے کہ نا جانے کتنی لڑکیاں اس برائی کی وجہ سے غیر شادی شدہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں- معاشرے کی ایسی برائی جو ہماری لا علمی سے پیدا ہوئی ہے اس کو ہم ختم کر سکتے ہیں- صرف ایک قدم بڑہھانے کی ضرورت ہے۔ کیا کوئی نوجوان میری آواز سن رہا ہے؟؟

2 COMMENTS

  1. Very beautiful article. Now a days this problem exist in both sides.
    Boy can’t ask for marriage nor girl’s family will agree if boy don’t have sound profile, bank balance, house or job. Other than that on the name of “haq mehar” girl’s family ask for golden jewlary, six figure bridal dress and all other stuff.
    In boy’s family a newly wed girl can’t make place untill she didn’t bring luxry. Even after a year of marriage if her parents couldn’t bought freezer, heater or anything at the time of marriage it is their duty to buy these items for her house.
    What are our directions I dont know but it is for sure our society as a whole is materialistic.

LEAVE A REPLY