!بچے کی بھوک اور میری سالگرہ

!بچے کی بھوک اور میری سالگرہ

SHARE
سالگرہ
Image Source: https://www.corporaterewards.co.uk

میری ہر سالگرہ پر صرف کیک کاٹا جاتا، آبا جان مولوی تھے لہذا وہ سالگرہ کے سخت خلاف تھے ۔ جس کے باعث گھر میں نہ تو کسی رشتہ دار کو دعوت دی جاتی اور نہ ہی میرے لیے تحفے وصول کئے جاتے- میرے لیے وہ دن خاص نہ ہہوتا- میں معمول کی طرح اٹھتی، کیک کاٹتی اور تھوڑا سا کھا لیتی۔

میری ساتویں سالگرہ پر میری ایک آنٹی بھی گھر پرآئی ہوئی تھیں۔ میں اس دن بہت خوش تھا کیوں کہ مجھے یقین تھاکہ آنٹی کے بے حد اصرار کے بعد ہم ساری فیملی ساتھ والے پارک میں کیک کاٹیں گے۔

وہاں مجھے اپنا ایک ہم عمر بچہ روتا ہوا نظر آیا۔ میرا دھیان بااربار اسکی طرف جاتا۔ اسکی ماں میلے کچیلے کپڑوں میں پاس بیٹھی اسے بہلا رہی تھی۔ کافی دیر دیکھنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ بچہ بھوک کی وجہ سے رو رہا ہے- میں نے امی کو اسے سالگرہ پر دعوت دینے کا کہا۔ لیکن امی کو اجنبیوں سے ملنے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ انہوں نے صاف انکار کر دیا- میرا دل بہت دکھی ہوا۔ پھر کیک کاٹا گیا۔ اور آنٹی نے بطور تحفہ ایک لفافہ تھمایا جس میں ایک ہزار روپے تھے- میرے لیے یہ ایک بڑی رقم تھی۔ میں نے امی کی طرف دیکھا تو وہ مجھے محبت بھری نظروں سے دیکھ کرکہنے لگیں، “یہ آنٹی کا تحفہ ہے تم جہاں خرچ کرنا چاہو کر سکتی ہو۔”

میری دوسری نظر اس روتے ہوئے بچے پر پڑی۔ میں خاموشی سے اٹھی اور وہ لفافہ اس عورت کو تھما تے ہوئے کہا “یہ میری طرف سے میری سالگرہ کا تحفہ میرے بھائی کو دے دیجیے گا۔”

عورت نے تچکر بھری نظروں سے مجھے دیکھا اور جلدی سے لفافہ لے کر وہاں سے چلی گئی۔ اس عورت کو لفافہ تھماتے ہوئے جو سکون اور تسلی محسوس ہوئی وہ ایک ہزار روپے خرچ کر کے شاید نہ مل پاتی۔ آج پندرہ سال بعد اس سالگرہ کو یاد کروں تو خود پر فخر ہوتا ہے اوردل سکون سے بھر جاتا ہے

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY