بوند بوند کو ترستا بچا۔۔۔۔ تھیلیسیمیا

بوند بوند کو ترستا بچا۔۔۔۔ تھیلیسیمیا

SHARE

جب سے اس دنیا میں آنکھ کھولی سب کو پیسے کے پیچھے بھاگتے دیکھا۔ ہمیشہ سے یہی سنا تھا کہ یہ زندگی پیسوں سے چلتی ہے پر کسی نے یہ نہیں بتایا تھا کہ اس زندگی کا وجود خون کے بنا بھی ممکن نہیں۔ آج ہسپتال میں ایک شخص کو روتے ہوئے ڈاکٹر سے اپنے بچے کے لیے زندگی کی بھیک مانگتے دیکھا تو ظاہر ہے کچھ عجیب سا لگا۔ ’’زندگی اور موت خداکے ہاتھ میں ہے جناب! آپ بس دعا کیجیے اور خون کا انتظام کیجیے۔‘‘  یہ کہتے ہی، ڈاکٹروہاں سے چل دیا۔ میں وہاں اپنے دادا جان کی دواء لینے گئی تھی لیکن یہ منظر دیکھتے ہی وہی رک گئی۔ یہ سب دیکھ کر میں بے چین ہوگئی اور ڈاکٹر کے جاتے ہی اس شخص کو دلاسہ دینے کے لیے کہنے لگی کہ آ پ سول ہسپتال میں اپنے بچے کا علاج مفت کروا سکتے ہیں۔ یہ سنتے ہی اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور بولا کہ ’’کوئی مجھ سے میری لاکھوں کی جائیداد بھی مانگ لے تو وہ بھی میں دینے کو تیار ہوں۔ بس میرے بچے کہ لیے ہر ہفتے خون کا انتظام ہونا چاہیے۔ خون کا انتظام اور وہ

‘‘بھی ہر ہفتے۔

میں حیرت کے اگلے مرحلے جسے پریشانی کا نام دیا جا سکتا ہے میں داخل ہوچکی تھی۔ جسے میں مفلس اور تنگ دست سمجھ رہی تھی وہ دراصل لاکھوں کے بدلے خون کی تلاش میں ہلکان ہوا پڑا تھا۔ میں اسکی پریشانی سمجھ ہی نہ سکی اور اسے مفت علاج کا مشورہ دے بیٹھی۔ اسے فقط ہر ہفتے خون کی ضرورت تھی ۔ حقیقت جانتے ہی میرا دل لرزگیا۔ پھر ایک اور خیال نے مجھے جھنجھوڑا۔ وہ یہ کہ اس بچے کے ساتھ تو میرا کوئی رشتہ بھی نہیں ہے اور میں تو بس ماں باپ کے درد کو دیکھ کروہاں رک گئی تھی لیکن پیدا کرنے والی ماں اور شفقت لوٹانے والے باپ پرہر لمہ کیا گزرتی ہوگی۔ مزید پوچھنے پر پتا چلا کہ بچے کو تھیلیسیمیا ہے جس کی وجہ سے ہر ہفتے بچے کے جسم کا خون بدلنا پڑتا ہے۔

میرے دماغ میں سوال اتھنے لگے۔ کیا اس کا کوئی علاج نہیں؟ اس بیماری کی کوئی تو وجہ ہو گئی؟ میرے سوالوں پر وہ خاموش تھے اور پھر اچانک بولے کہ کاش ہم نے شادی سے پہلے ٹیسٹ کروا لیا ہوتا۔ ٹیسٹ کا سن کر میں چونکی۔ میرے مزید دریافت کرنے پرانھوں نے بتایا کہ جس کے والدین میں یہ مرض مائنر ہو تو اولاد کو اس خطرناک بیماری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور انھیں اور انکی بیوی دونوں کو تھیلسیمیا مائنر ہے۔  انھیں لگتا تھا کہ انکی غلطی کی سزا انکا بچہ بھگت رہا ہے۔

اس شخص کی باتوں نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ شاید ہی ہمارے معاشرے میں کوئی شادی سے پہلے اپنا ٹیسٹ کرواتا ہو جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ کیا کہیں گے یا پھر اللہ نہ کرے ہمیں یہ بیماری کیوں ہونے لگی۔ لیکن مستقبل کا کوئی نہیں سوچتا۔

اس خیال سے میں اب بھی ڈر جاتی ہوں کہ کیا معلوم کب ہم میں سے کوئی اور اسی جگہ کھڑا  ہو جہاں وہ شخص کھڑا تھا۔ ایک معمولی سا ٹیسٹ کل کی آنے والی مشکل کو ٹالنے میں بہت مفید

!ثابت ہو سکتا ہے۔ سوچیئے گا

SHARE
Previous article!درگزر کیونکر کریں
Next articleFrom PSL to Pakistan
Rimsha Sheikh
Currently pursuing degree in mass communication & media from university of gujrat, Gujrat.... wants to join professional media, love to read islamic books, listening qawali(s)

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY