بنت حوا ۔۔۔۔۔یخ بستہ موسم میں بھی علم کی پیاس

بنت حوا ۔۔۔۔۔یخ بستہ موسم میں بھی علم کی پیاس

SHARE
بنت حوا ۔۔۔۔۔یخ بستہ موسم میں بھی علم کی پیاس
یونیورسٹی وف گجرات کا ایک منظر

رات کا پچھلا پہر اﷲ تعالیٰ کا اپنے پسندیدہ بندوں سے امتحان کا وقت ہوتا ہے ۔ شاید اسی لیے اس وقت نیند کا غلبہ انسان پہ زیادہ حاوی ہوتا ہے اور اٹھنا مشکل ہوجاتا  ہے تاکہ اﷲ کے منتخب شدہ بندوں کی پہچان ہو سکے۔  وہ اذان کی آواز سنتے ہی گرم بستر اور میٹھی نیند کو خیر باد کہتے ہوئے اپنے رب کی بارگاہ میں حاضری د یتے ہیں۔ اسکے برقص کچھ اُس رب کو جو کہ سترماؤ ں سے زیادہ محبت کرتا ہے، اسکی محبت اور ان گنت نعمتوں کی شکر آوری سے غافل خوابِ خرگوش میں محو رہتے ہیں۔

مگر یہاں صورت حال بلکل مختلف ہے۔ آنکھ اذان فجر کی وجہ سے نہیں بلکہ الارم بجنے کیوجہ سے کھلتی ہے- سردیوں کی یخ ٹھنڈی رات کو وہ دنیا جہاں کے تمام غموں، پریشانیوں اور اندیشوں کو بھلائے ہوئے نرم وملائم اور گرم بستر کی راحت میں مدہوشی کے عالم میں سو رہی ہوتی ہے۔ اور رات کے 5بجے، الارم کی مسلسل گھنٹی کی وجہ سے وہ بیدار ہوتی ہے۔ جتنی زور شور سے الارم بج رہا ہوتا ہے ، شاید اس سے بھی زیادہ اونچی آواز میں اسکے دماغ میں ایک زور دار دھماکہ ہوتا ہے کہ اب اس گرم بستر کو چھوڑنا ہے ، مزید سونے کا وقت نہیں ہے! وہ آنکھوں کو مسلتے ہوئے الارم بند کرتی ہے جس سے الارم کاشور تو ختم ہو جاتا ہے مگر دل اور دماغ میں ایک جنگ چھڑ جا تی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ آج چھٹی کی جا ئے بہت زیادہ ٹھنڈ ہے ، موسم خراب ہے، بارش بھی ہوسکتی، بہت تیز ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے، نیند بھی پوری نہیں ہوئی۔ اس لیئے دل مزید سونے کی ضد کررہا ہوتا ہے۔

لیکن اسکی مخالف سمت میں دماغ  کے خدشاتاپنی آواز بلند کرتے ہیں۔ جسکی وجہ سے آرام و سکون اور موسم کے درجہ حرارت کی فکر کیے بغیروہ سردی کے میدان میں ایک مرد مجاہد کی طرح حاضر ہونے کے لیے تیار ہوتی ہے۔ یہ سوچتے ہوئے کہ زندگی کا دوسرا نام جدوجہد ہے۔ اورآگے بڑھنے کے لیے مسلسل حرکت کی ضروت ہوتی ہے۔ حالات اور موسم جو بھی ہوں ٓپختہ عزم کا ہونا کامیابی کی ضمانت ہے۔ علامہ محمد اقبا ل کے اس شعر کو اپنے ذہن میں دہرانے سے اسکے جوش، جذبے اور علم کی تشنگی کو تقویت ملتی ہے۔

تُندی بادمخالف سے نہ گھبر ا اے عقاب!

یہ تو چلتی ہے تجھے اُنچا اڑانے کے لیے

 وہ والد صاحب یا بھائی کے دروازے پہ دستک دیتی ہے ۔ “اُٹھیے۔۔! مجھے بس سٹاپ تک چھوڑ کے آئیں۔ پلیز جلدی اٹھیں ، میری بس چھوٹ جائے گی۔” اور وہ بیٹی /بہن کی آواز پہ حکم کی تابعداری اور فرض کی سبکدوشی کے لیے اُٹھتے ہیں۔ رات کی تاریکی اور سناٹے میں صرف اذان کی آواز سنائی دے رہی ہوتی ہے ۔اور سٹاپ پر چھوڑنے کے لیے تھوڑی دور تک بائیک چلانے سے ہاتھ پاؤں جمے  سے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ مگر  اپنی بیٹی /بہن کو علم کی دولت سے مالامال کرنے کے اطمینان و سکون کے سامنے باہر کے ٹمپریچر کا اثر زائل پڑ جاتا ہے۔ دوسری طرف یخ بستہ موسم میں بھی شدید علم کی پیاس اور گمشدہ میراث کو ڈھونڈنے کے جنون کے سامنے موسم سرما، گرما اور برسات کی پرواہ کیے بغیر ،میٹھی نیند اور گرم بستر کو چھوڑ کر سٹاپ پہ بس کا انتظار کرنا اس لڑکی کو زیادہ عزیز ہوتاہے۔ والد/بھائی کو اﷲ حافظ کہتے ہوئے وہ بس میں سوار ہوتی ہے اور وہ اسے بہت سی دعاؤں اور اُمیدوں کے ساتھ اﷲ پاک کو سونپتے ہوئے گھر واپس آ جاتے ہیں۔

فلک پہ چاند ڈوب رہا ہوتا ہے مگر یہاں دو دلوں میں ایک ایسا آفتاب انگڑائی لے رہا ہوتا ہے جسکی کرنیں ماں، باپ، بھائی اور خاندان کے لیے کامیابی،، خوشی اور سر بلندی کی روشنی سے منور ہوں گی۔

 یونیورسٹی آف گجرات کی سب سے بڑی خصوصیت اور سہولت ٹرانسپورٹ سروس ہے جو کہ قریبی شہروں اور دیہاتوں سے طلبہ و طالبات کو سے پک اینڈ ڈراپ کی سہولت مہیا کرتی ہے جسکی وجہ ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے طالبعلم علم کی دولت سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ وہ لڑکی بھی روز صبح شام کئی کلومیٹر کا سفر کرکے اپنے مستقبل کی تعمیر کرتی ہے اور اپنی منزل کو پانے کے لیے یہ مسافر راستے کی ہر پریشانی و مشکل  کا خوش دلی سے مقابلہ کرتی ہے جسکی وجہ سے قدموں کو لڑکھڑانے اور ارادوں کو پست کرنے  کے لیے پیش آنے والی رُکاٹیں نیک نیتی کیوجہ سے بفضل خداوند کریم دھول بن کے اُڑ جاتی ہیں۔

 وہ اپنے ماں، باپ اور بھائیوں کے مان ، غرور، عزت اور سر بلندی کے لیے جہاد بالنفس کرتی ہے اور ایک غازی کی طرح اس جنگ میں کامیاب ہوتی ہے- چاہے وہ دنیا کی جس بھی یونیورسٹی میں چلی جائے اسکی توجہ کا مرکز تو صرف اور صرف علم کی دولت کو سمیٹنا ہوتا ہے۔

گھر سے یونیورسٹی آف گجرات کا پورا راستہ وہ اپنے سپنوں کا جال بُننے میں گزارتی ہے۔ وہ سپنے جہنیں حقیقت میں ڈھالنے کے لیے وہ پورا دن اپنی تمام کلاسز لیتی ہے۔ جب شام کو واپس سٹاپ پہ پہنچتی ہے تو باپ/بھائی کو منتظر پاتی ہے۔ جب وہ گھر سے نکلی تھی تب بھی اندھیرا تھا، چاند ستاروں کی ٹمٹماتی روشنی اور اذان کی آواز تھی۔ اب بھی وہی کیفیت ہے ۔ فرق بس اتنا ہے تب اذان فجر تھی اور اب اذان عشاء۔ مگر۔۔۔
!ارادے جن کے پختہ ہوں، نظر جنکی خدا پہ ہو تلاطم خیز موجو ں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY